خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page iii
بسم الله الرحمن الرحيم عرض ناشر شوریٰ کا نظام ارشاد باری تعالیٰ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ یعنی اہم معاملات میں ان سے مشورہ کر لیا کر کے مطابق آنحضرت مالی ایلام کے زمانہ میں جاری ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ایک مثالی دینی معاشرہ اور دین کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شوری کو ضروری قرار دیا ہے۔حضور ملی تھا یہ تم کا مبارک طریق تھا کہ اہم دینی اور امور مملکت کے معاملات میں اپنے صحابہ کرام سے ضرور مشورہ لیا کرتے تھے۔اس کی اتباع میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی احباب جماعت سے انفرادی و اجتماعی صورت میں مشورے لیتے رہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے باقاعدہ مشاورت کا قیام سن 1922ء میں فرمایا اور شورٹی کے افتتاحی خطاب میں تفصیل کے ساتھ شوری کی غرض و غایت اور اہمیت پر زریں ہدایات دیں۔نیز حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ 1922 ء تا 1960 ء تک مجلس شوری میں بنفس نفیس شمولیت فرماتے رہے اور قدم قدم پر احباب جماعت کی رہنمائی فرمائی۔آپ کے ان خطابات کو جو نظام شوری کی اہمیت اور جماعتی ترقی و تربیت کے لئے مشعل راہ ہیں فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ نے خطابات شوری کے نام سے مرتب کر کے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے شائع کیا ہے۔اس کی ترتیب و تیاری میں جن احباب نے خدمات سرانجام دی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں محض اپنے فضل سے جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔یہ خطابات احباب جماعت کی تعلیمی، تربیتی ، روحانی اور جسمانی ترقی کے لئے بے حد مفید اور بابرکت ہیں۔