خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 262

خطابات شوری جلد سوم ۲۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ۲۲۸ روپے ہے اصل بات یہ ہے کہ آمد کو خزانہ میں با قاعدہ طور پر داخل نہیں کیا جاتا اور اُسے خرچ کر لیا جاتا ہے حالانکہ قاعدہ یہ ہے کہ بلوں کے ذریعہ تمام رقوم خزانہ سے برآمد کرائی جائیں مگر نہ تو ناظر اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی افسران صیغہ جات۔اور اس طرح آمد کچھ ہوتی ہے اور خزانہ میں کچھ اور رقم داخل ہوتی ہے اسی طرح ریویو اُردو کی آمد سال گزشتہ ۴۶۔۱۹۴۵ء میں ۱۳۲ روپیہ ہوئی اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ۱۴۰۰ روپے گرانٹ بھی دی گئی یہ کل ۲۵۳۲ روپے کی آمد بنتی ہے مگر اس سال پہلے چھ مہینوں میں صرف ۱۳۶۱ روپیہ آمد ہوئی اور پچھلے تین مہینوں میں ۴۰۳ روپے۔اگر گرانٹ کو نکال دیا جائے تو رسالہ کی اصل آمد پہلے چھ ماہ میں ۳۱۱ روپے ہوئی اور پچھلے تین ماہ میں ۱۰۳ روپے یعنی سارے سال میں رسالہ کی اپنی آمد ۲۱۴ روپے ہوئی مگر بجٹ میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اگلے سال یہ آمد یکدم ۲۶۰۰ روپیہ ہو جائے گی۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگلے سال اتنا اضافہ یکدم کس طرح ہوسکتا ہے۔یہی حال ریویو انگریزی کا ہے ۷۲۵ اروپیہ آمد ہوئی مگر خزانہ میں صرف ۳۳۶ جمع ہوئے باقی رقم اُڑ گئی ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگلے سال کا تخمینہ آمد ۲۱۰۰ روپیہ ہو گا۔یہ سارے حالات اس قسم کے ہیں کہ صدر انجمن احمد یہ شدید الزامات کے نیچے آتی ہے ہمارا یہ قاعدہ سالہا سال سے چلا آتا ہے کہ کوئی شخص خود بخود روپیہ کو خرچ کرنے کا مجاز نہیں۔جب ہمارے گھروں میں ہمارے کسی ملازم کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ آپ ہی آپ روپیہ کو خرچ کرتا پھرے تو صدرانجمن کے ملازمین کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ وہ خود ہی روپیہ کو خرچ کرنا شروع کر دیں۔اب میں دوستوں کے سامنے اصل بجٹ ۴۸۔۱۹۴۷ء پیش کرتا ہوں سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ خرچ خرید زمین برائے ہسپتال ہائی سکول وغیرہ کے لئے ۴۲۵۰۰ روپیہ اور ادائیگی حصص دی سندھ ویجی ٹیبل آئل اینڈ ایلائیز کمپنی کے لئے ۸۴۰۰ روپیہ اور ریتی چھلہ میں دُکانات کی تعمیر کے لئے ۴۰۰۰۰ روپیہ یہ گل ۱۲۶۵۰۰ رو پی ریز روفنڈ کی رقم میں جذب ہونا چاہیے اصل میں ۸۴۰۰ روپیہ صرف سندھ کی ویجی ٹیبل آئل کمپنی کے لئے ہے اور اسی کے متعلق میں نے کہا تھا کہ یہ رقم رکھی جائے۔بہر حال اس وقت جو بجٹ دوستوں کے سامنے ہے اس میں * کی زیادتی منظور کی جانے والی ہے اس کے متعلق دوست اگر ترامیم پیش کرنا نوٹ :۔معین رقم معلوم نہیں ہوسکی