خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page vii

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ پیشگوئی مصلح موعود اُس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دُنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کریگا۔اور کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خُدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائیگا۔اور وہ تین کا چار کرنے والا ہو گا ( اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْهَرُ الْأَوَّل وَالْآخِرِ ـ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ٹور آتا ہے نور۔جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے۔وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا - (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶)