خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 613

خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں گویا گشتی شروع ہو جاتی ہے۔انسان زور لگاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں موت حاصل ہو لیکن فرشتے زور لگاتے ہیں کہ اسے زندہ رکھا جائے۔جب خدا کا بندہ کہتا ہے کہ میں خدا کے لئے مرنا چاہتا ہوں تو خدا تعالیٰ کے سارے فرشتے کہتے ہیں ہم مرنے نہیں دیں گے اور آخر فرشتے ہی جیتتے ہیں۔بندہ چاہتا ہے کہ مرجائے۔وہ اس کے لئے اپنے آپ کو ایسے حالات میں ڈالتا ہے جن کا نتیجہ موت ہوتی ہے مگر وہ مرتا نہیں۔جنگ حنین کا واقعہ حسنین کے واقعہ کوہی دیکھ لو۔جب دشمن حملہ کر کے آگے بڑھا تو اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صرف بار آدمی تھے باقی سب دشمن کی تیراندازی سے تتر بتر ہو گئے تھے۔اُس وقت حضرت عباس نے کہا حضور ذرا پیچھے ہٹ جائیں مگر آپ نے سواری کو ایڑی لگائی اور آگے بڑھتے ہوئے فرمایا۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہوں میں پیٹھ کس طرح دکھا سکتا ہوں یہ ایک ایسا کلمہ تھا جو انسانیت کو بھلا کر خدا تعالیٰ کے سامنے لانے والا تھا۔چار ہزار تیر اندازوں کے مقابلہ میں ایک شخص کہتا ہے میں یہاں سے ہٹ نہیں سکتا تو یہ انسان نہیں بلکہ خدا بول رہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا بھی کہ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ۔میں انسان ہی ہوں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ میں خدا کی راہ میں مرنا چاہتا ہوں تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اُتر آئے اور حنین کی شکست فتح سے بدل گئی اور آپ فاتح بن کر میدان جنگ سے لوٹے۔اُحد کی جنگ اسی طرح احد کی جنگ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ باہر نکل کر مقابلہ کریں یا اندر ہی رہ کر؟ اُس وقت بعض نوجوان چاہتے تھے کہ بہادری دکھا ئیں اور باہر نکل کر مقابلہ کریں۔اُنہوں نے اس کے لئے بہت زور دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات مان لی اور آپ زرہ پہن کر نکل آئے۔بعد میں جو لوگ آئے انہوں نے نوجوانوں کو سمجھایا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ اندر رہ کر مقابلہ کریں تو تم نے باہر نکل کر لڑنے پر کیوں