خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 563

خطابات شوری جلد اوّل ۵۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء نام اور اس کے چندہ کی رقم درج ہو۔اگر ہم رمئی کی صبح تک ایسی فہرست نہ پہنچی تو لوکل کمیٹی کے کارکن اپنے آپ کو معطل سمجھیں۔ان کی جگہ میں اور مقرر کروں گا۔بجٹ آمد کے متعلق فیصلہ آمد کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ بجٹ مجوزہ کو پاس کیا جائے لیکن اس تبدیلی کے ساتھ کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں سے جو بقایا کسی جماعت کے ذمہ رہ گیا ہے اُسے اس سال کے بجٹ میں زائد کر 66 دیا جائے کیونکہ وہ اُن کے ذمہ قرض ہے جسے ادا کرنا ان کا فرض ہے۔“ مجلس مشاورت کے تیسرے دن کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور اختتامی تقریر نے احباب کو الوداعی نصائح کرتے ہوئے فرمایا : - اب پونے دو بج گئے ہیں اور ایک سب کمیٹی کی رپورٹ باقی ہے جو ۳۷ صفحات پر مشتمل ہے۔اس وقت اس رپورٹ کا پیش کرنا بے فائدہ ہوگا اس لئے اس کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ نظارت امور عامہ اس سکیم کو ایک ماہ کے اندر اندر اردو میں چھاپ کر نمائندگان مجلس مشاورت کے پاس بھیج دے اور اس کے متعلق اب جو نئی سب کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ قائم رہے۔جماعتوں کے نمائندے اپنی آراء لکھ کر ایک ماہ کے اندر سب کمیٹی کے سیکرٹری ناظر امور عامہ کے پاس بھیج دیں۔وہ آرا ء سب کمیٹی میں پیش ہوں اور پھر جو رپورٹ وہ لکھے وہ میرے سامنے پیش ہو۔پھر میں فیصلہ دے دوں گا۔یہ سکیم ایک ماہ کے اندر اندر طبع کر کے باہر بھیج دی جائے۔دوسرے مہینہ میں جماعتوں کے مشورے آجائیں۔تیسرے مہینہ میں سب کمیٹی ان پر غور کرے اور رپورٹ پیش کرے۔پھر میں فیصلہ دے دوں گا۔اس سکیم کو اگلے سال کے لئے ملتوی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔اور اس طرح یہ کام ہو سکتا ہے۔اس کے بعد دوسرے سوال کو چھوڑتا ہوں کیونکہ اُس کے لئے وقت نہیں ہے اور ایک امر کے متعلق میں پسند نہیں کرتا کہ اس وقت پیش کیا جائے اگلے سال اگر مناسب ہوا تو پیش کر دوں گا۔ضروری ہدایات اب میں چند الفاظ نصائح کے کہنے کے بعد اس مجلس کو ختم کرتا ہوں۔میں دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام کام