خطابات — Page 3
بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیت 56 میں جسے آیت استخلاف بھی کہا جاتا ہے، مؤمنین کو خلافت کی بشارت عطا فرمائی ہے جس میں انبیاء علیہم السلام یعنی اللہ تعالیٰ کے خلفاء اور قدرت ثانیہ یعنی انبیاء علیہم السلام کے خلفاء شامل ہیں۔آنحضرت ﷺ نے آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج النبوۃ کی اپنی امت کو بشارت عطاء فرمائی کہ اُس وقت امت مسلمہ کی وحدت اور ترقی کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہوگا اور وہ قدرت ثانیہ یعنی خلافت کے ساتھ وابستگی ہو گا۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسیح موعود علیہ السلام کو مانے کی توفیق عطا فرمائی اور آپ کی وفات کے بعد خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی بھی توفیق بخشی۔خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ عظیم احسان ہے کہ اُس نے ہمیں خلافت احمد یہ جو آنحضور ﷺ کی عین پیشگوئی کے مطابق خلافت علی منہاج النبوة ہے، کی پہلی صدی اور دوسری صدی کے سنگم پر اس کی برکات کی بدولت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قیادت میں جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقیات کا شاہد بننے کی سعادت عطاء فرمائی۔حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافت احمدیہ کے قیام پر سو سال پورا ہونے کے موقعہ پر جماعت کے نام جو روح پرور پیغام دیا، اُسے ہم آئندہ صفحات میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ 27 مئی 2008ء کو صد سالہ خلافت احمد یہ جوبلی کے روز حضور انور نے Excel سینٹر لندن میں جو معرکۃ الآراء خطاب فرمایا اور MTA کی وساطت سے Live ساری دنیا میں بیک وقت دیکھا اور سنا گیا نیز 30 مئی 2008 کو بیان فرمودہ خطبہ جمعہ اور 24 اگست 2008ء کو جماعت احمد یہ جرمنی کے جلسہ سالانہ کا اختتامی خطاب بھی پیش کیا جارہا ہے۔ان تمام خطابات اور خطبہ جمعہ میں حضور انور نے خلافت کی برکات اور اہمیت کو اجا گر فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہماری اولا د در اولا دکوان تمام برکات سے کما فقہا بہرہ ور فرمائے اور اُس عہد پر پوری طرح کار بند رہنے کی توفیق عطاء فرمائے جو حضور نے ہم سے 27 مئی 2008ء کے خطاب میں لیا تھا۔آمین یارب العالمین۔خاکسار منیر الدین شمس ایڈیشنل وکیل التصنيف