خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 110

خطابات — Page 25

25 اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھایا ہے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کی جماعت کے لئے ایک نیا اور سنہری باب رقم کر رہا ہے۔پس اس نیت سے اور اس نعمت کے اظہار اور شکرانے کے طور پر اگر ہم یہ تقریب اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس حوالہ سے تقریبات منعقد کر رہے ہیں تو یہ نہ صرف جائز بلکہ خدا تعالی کے حکم کے عین مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدَتْ یعنی تو اپنے رب کی نعمتوں کا ضرور ا ظہار کرتارہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: عجز و نیاز اور انکسار۔۔۔ضروری شرط عبودیت کی ہے لیکن بحکم آیت کریمہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔سے پھر آپ مزید فرماتے ہیں: یہ عاجز بحكم وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ " اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ خداوند کریم ورحیم نے محض فضل وکرم سے ان تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافر دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا۔بلکہ یہ تمام نشان دئے ہیں جو ظاہر ہورہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالی جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا“۔ھے پھر آپ فرماتے ہیں: یا درکھو کہ انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں دعا کا طالب رہے اور ۱، ۲، ۴ سورۃ الضحی۔آیت 12 مکتوبات احمد۔مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی۔جلد دوم ایڈیشن 2008 ء۔صفحہ 66۔مکتوب نمبر 42 ازالہ اوہام صفحہ 448 449 - روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 338-339۔مطبوعہ انگلستان