خطابات — Page 18
18 اس بات پر حیران کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں، یہ کیسی جماعت ہے جسے ہم سو سال سے ختم کرنے کے درپے ہیں اور یہ آگے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ایک مخالف نے برملا اظہار کیا کہ میں تمہیں سچا تو نہیں سمجھتا لیکن اس نظارہ کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت تمہارے ساتھ لگتی ہے۔میرے جیسے کمزور اور کم علم انسان کے ہاتھ پر بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جمع کر دیا اور ہر دن اس تعلق میں مضبوطی پیدا ہوتی جارہی ہے۔دنیا بجھتی تھی کہ یہ انسان شاید جماعت کو نہ سنبھال سکے اور ہم وہ نظارہ دیکھیں جس کے انتظار میں ہم سوسال سے بیٹھے ہیں۔لیکن یہ بھول گئے کہ یہ پودا خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے لگایا ہوا ہے جس میں کسی انسان کا کام نہیں بلکہ الہی وعدوں اور تائیدات کی وجہ سے ہر کام ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ الہام پورا فرما رہا ہے کہ ” میں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں پس یہ اپنی تقدیر ہے۔یہ اسی خدا کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو پیارے جو آپ کے حکم کے ماتحت قدرت ثانیہ سے چھٹے ہوئے ہیں، انہوں نے دنیا پر غالب آنا ہے کیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔آج اس قدرت کو سو سال ہورہے ہیں اور ہر روز نئی شان سے ہم اس وعدہ کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں جیسا کہ میں نے جماعت کی مختصر تاریخ بیان کر کے بتایا ہے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو قدرت ثانیہ سے چمٹ کر اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرے۔بدر جلد 6 نمبر 51 مؤرخہ 19 دسمبر 1907 صفحہ 4۔احکام جلد 11 نمبر 46 مؤرخہ 24 دسمبر 1907ء صفحہ 4 بحوالہ تذکرہ صفحہ 630۔ایڈیشن چہارم۔مطبوعہ 2004 ء