خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 65
خطابات طاہر جلد دوم اور بھی زیادہ بہتر ہو جائے گا۔65 59 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء ترکی زبان میں جو کمی تھی اس کو پورا کرنے کے لئے ٹرکش Turkish ڈیسک ایک یہاں قائم کیا گیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی اشاعت کی طرف توجہ کی گئی اور گزشتہ ایک سال میں اس عارضی ہجرت کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جو منصوبہ بنایا گیا، تئیس جلدیں روحانی خزائن کی ایک سو پچاس پاؤنڈ میں انشاء اللہ تعالیٰ ہم شائع کریں گے اور اس میں سے اب تک پہلی گیارہ جلدیں طبع ہو کر یہ ساتھ میرے پاس پڑی ہوئی ہیں، یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت پیارا عمدہ معیار ہے اور آپ دیکھیں گے تو آپ کی آنکھیں خیرہ ہوں گی۔نہایت صاف ستھرا کاغذ، اچھی پیشکش، اچھی جلد اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں کے شایان شان تو ہم نہیں کہہ سکتے۔الہی معارف جس کلام میں ہوں اس کے شایان شان تو کوئی لبادہ بھی نہیں ہوا کرتا لیکن انسانی کوشش کا جہاں تک تعلق ہے آپ انشاء اللہ دیکھیں گے کہ گزشتہ سب کوششوں سے زیادہ حسین اور دیدہ زیب کوشش ہے یہ اور جہاں تک رقم کا تعلق ہے ایک سو پچاس پاؤنڈ سارے سیٹ کی قیمت یہ تو کچھ بھی نہیں۔پاکستان میں جو ہمارا اندازہ تھا جب تک حکومت پاکستان نے جبراً ہمیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا، وہ اس سے زیادہ تھا اور طباعت کا معیار بہت گرا ہوا تھا۔اس لئے یہ یہاں چھپوانا اور کوئی بُر اسودا نہیں ہے انشاء اللہ اس سال مزید جلدیں، یعنی گیارہ تو آچکی ہیں ایک سال کے اندر اس سال رفتار تیز ہوئی ہے پہلے سے اور اور جلدی چھپیں گی۔انشاء اللہ نئی مطبوعات میں قادیانی مسئلہ کا جواب بڑی وسیع تعداد میں شائع کر کے جماعتوں کو بھجوایا گیا، آیت خاتم انہین اور جماعت احمدیہ کا مسلک اور دیگر بہت سے رسائل، پاکستان میں کیا ہورہا ہے، حکومت پاکستان کے پرو پیگنڈے کے جوابات مختلف نہج سے ،شریعت کورٹ اور اس پر تتبصرے، ان حالات سے متعلق خطبات بڑی کثرت سے شائع کر کے جماعتوں کی ضرورت کو پورا کر دیا گیا ہے اللہ کے فضل سے، کوئی جماعت اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہماری پیاس زیادہ تھی تم نے کم دیا ہے، ہم تو اب یہ کہہ رہے ہیں اور مانگو ہم سے اور جلدی سے تقسیم کروان کو۔عربی زبان میں کمی رہ گئی تھی، کمی تو اس لحاظ سے نہیں تھی کہ لٹریچر تھا ہی نہیں ہمارے پاس۔خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بھی تھیں بہت ہی مؤثر اور بعد کے علماء