خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 369

خطابات طاہر جلد دوم 369 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء چکے ہیں کہ جب یہ لکھا گیا تھا کہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تو لکھنے والے کا منشاء تھا علی مرزا غلام احمد قادیانی اس لئے ہتک رسول ہو گئی اور ساتھ پھر اتنی جرأت کہ حمادی کو چندے کی یاددہانی بھی کرادی اور بڑے کارڈ کو چھوٹے لفافے میں ڈال دیا۔تین گستاخی رسول کے واقعات ہیں جو دراصل اس مقدمے میں شامل ہیں اور پھر ہے نحمدہ و نصلی میں نے جیسے بیان کیا ہے علی عبدہ المسیح الموعود کی پھر کیا گنجائش رہی۔اگر وہ رسول اللہ ﷺے ہیں تو مسیح موعود کا کیا ذکر ہوا۔ایک اور واقعہ جس کا ذکر، اسی قسم کا مضمون ہے کہ کس طرح احمد یوں پر جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں محمد اشرف صاحب ننکانہ سے لکھتے ہیں : خاکسار بس میں سفر کے دوران شان خاتم الانبیاء کے چند پہلو پڑھ رہا تھا۔چھلی سیٹ پر ایک باریش مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے ، مجھ سے کہنے لگے ! یہ کتاب کسی بہت اچھے مصنف کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔میں اس سے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔خاکسار نے یہ کتاب انہیں پیش کر دی، جس پر انہوں نے لٹریچر تقسیم کرنے کا الزام لگا کر جھوٹے گواہ بنا کر مجھ پر مقدمہ درج کروادیا اور چوبیس سے زائد پیشیاں میں بھگت چکا ہوں۔“ اور الزام یہ ہے کہ تم نے گستاخی رسول کی ہے کیونکہ ایک باریش مولوی جھوٹے مولوی کو کتاب پکڑا دی۔شاید یہ گستاخی ہو کہ جھوٹے مولویوں کو کتاب پکڑائی جائے۔ان کو تو یہ تھانیدار زیادہ بہتر سمجھتا ہے جس نے ایک دفعہ ایک احمدی کو ، جس کو اس وجہ سے تھانے میں پیش کیا گیا تھا کہ اس نے ایک مولوی کو سلام کہ دیا تھا، السلام علیکم کہہ دیا تھا۔اس کو چھوڑتے ہوئے یہ تنبیہ کی اور کھلی کھلی وارننگ دی کہ خبر دار جو دوبارہ تم میرے سامنے پیش ہو اور تم پر پھر یہ الزام لگے کہ تم نے کسی مولوی کو السلام علیکم کہا ہے۔ہاں ! لعنتیں جتنی مرضی ڈالو میں کوئی مقدمہ درج نہیں کروں گا۔ڈسٹرکٹ جیل قصور سے تین احمدی انتہائی شدید گرمی میں سخت عذاب میں مبتلا اس جیل خانے کی کوٹھری سے مجھے خط لکھ رہے ہیں : نہ پانی میسر ہے نہ ہوا کا کوئی جھونکا میسر آتا ہے۔تقریبا آٹھ دس فٹ کی چکی ہے جس میں ہم نو آدمی رہتے ہیں۔نہ سو سکتے ہیں نہ جاگ سکتے ہیں۔“