خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 586
۱۵ کوئی نقص اور برائی اللہ کی طرف منسوب ہی خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے پہلے خدا کا نہیں ہو سکتی اور وہ پاک ذات کامل ہے ۶۶ بندہ بننا ضروری ہے ہراحسان کا سر چشمہ اور منب اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۶۷ تمہیں آسمانوں پر جانے کی کیا ضرورت تھی ۱۵۰ ۱۵۶ تمہیں تو اپنے ہر سانس کے لئے خدا کی تم اپنی شہہ رگ کے پاس خدا کو تلاش کرتے ۶۷ ابدی حیات خدا تعالیٰ کے پیار کی حیات ہے ۱۵۷ ضرورت ہے ہر حمد کا مرجع اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے آپ کی روح، ذہن اور آپ کے تخیل میں خدا تعالیٰ نے انسانی گوشت کی ہر بوٹی کے خدا ہی خدا ہو لئے علیحدہ دوائی بنادی ہے کوئی آپ کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا آپ کو اپنے وجود کا بھی احساس باقی نہ رہے جب تک کہ آسمانوں سے یہ حکم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کبھی جھنجھوڑتا ہے اور کبھی ڈھیل دیتا میرے بندے کی ضرورت کو پورا کر دو ۷۸ ہے تا کہ سمجھنے والے سمجھیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے فعل پر انفرادی حکم خدا کو حاصل کرنا تو بڑا ہی آسان ہے، وہ ۷۲ خدا تعالیٰ کی رحمتیں اس کثرت سے نازل ہوں کہ نازل کر کے اس نے ہمارے لئے دعاؤں جان مانگتا ہے جان دے دو کے رستے کھولے دنیا میں خدائی منصوبہ کو کامیاب کرنے کے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دعاؤں کے ذریعہ لئے تبدیلیاں ہو رہی ہیں سے اپنے قرب کے سامان پیدا کئے ہیں ۷۹ خدا کے منصوبے کو دنیا کی کوئی طاقت نا کام اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ ۸۷ نہیں کر سکتی اپنے پیارے رب سے کبھی بے وفائی نہ کرنا اصل رازق خدا تعالیٰ کی ذات ہے خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کے دینے میں بخیل دولت صرف خدا دیتا ہے انسان تو صرف ۹۴ ذریعہ بنتا ہے نہیں ہے دنیا جو چاہے کر لے ہوگا وہی جو خدا چاہے گا ۹۴ لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ خدا تعالیٰ بھی ہمارا خدا گونگا خدا نہیں ہے وہ سنتا بھی ہے دولت دے سکتا ہے اور بولتا بھی ہے ۱۴۹ اللہ تعالیٰ کو عاجزانہ راہیں پسند ہیں 172 ۱۶۷ ۱۷۲ ۱۸۲ ۱۹۸ ۱۹۸ ۱۹۸ ۲۰۱