خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 440

خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۰ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء ترقیات، ابدی ترقیات کا حصول ممکن ہو گیا اور ترتیب کا بدلنا ضروری ہو گیا۔جیسا کہ میں نے کہا میں جو آل عمران ہے اس میں چیک کرلوں۔یہ جو میں نے بتایا ناں فرق جو ہے یہ اس وجہ سے ہے اس کو خو د الفاظ میں بھی ظاہر کیا ہے تینوں جگہ دوسری جانب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہو جانے کا ذکر ہے ان تینوں جگہ یہ ہے کہ تمہیں وہ دیا جاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔یہی میں نے بتایا ہے ناں۔چکر میں تزکیہ آپ آتا ہے پھر وہ چیز دی جاتی ہے جو پہلے ان کے پاس نہیں تھی پھر ایک نیا دور شروع ہوتا ہے، پھر ایک نیا دور شروع ہوتا ہے کیونکہ ہر دور کے بعد يُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (البقرة : ۱۵۲) اور وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ ( الجمعة :٣) اور جو چوتھی قرآن کریم کی ترتیب میں بھی آخری موقعے پر یہ دوہرائے گئے ہیں چار مقاصد وہ سورہ جمعہ ہے۔یہ جو ابدی ترقیات کا حصول ممکن ہونا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں یہ خیال گزرسکتا تھا کہ یہ انفرادی طور پر ہوتا ہے اور اسی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن سورۃ جمعہ میں امت محمدیہ کے لئے ، امت اور محمد یہ بحیثیت امت محمدیہ ان دائروں میں سے گزرتی چلی جائے گی۔سمجھ نہیں آئے گی ان کو اور دنیا کے بدلے ہوئے حالات میں جو فضل أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ (الجمعة :۴) پر نازل ہوں گے وہ بعض پہلوؤں کے لحاظ سے اس میں کہیں خلط کر جائیں کیونکہ پہلوں کو جو ملا۔وہ بڑا عظیم تھا۔وہ بے حد عظیم تھا لیکن بعض پہلوؤں کے لحاظ سے ہر آنے والی نسل پہلوں سے کچھ زیادہ فضل بھی لے رہی ہے اس لئے چودہ سو سال جو گزرے اس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر صدی نئے مسائل لے کر آتی ہے جب ہر صدی نئے مسائل لے کر آئی ہے تو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے جو بطون قرآنی ہیں اور قرآن کریم کے بطون ہر چار چیزوں سے تعلق رکھنے والے ہیں یعنی آیات جو پہلے ظاہر نہیں ہوئیں وہ ظاہر ہونی شروع ہوئیں کتاب کے معنی جو یعنی اصول اور فلسفہ مثلاً اشتراکیت کے مقابلے میں میں ہی جاکے بات کرتا ہوں پہلوں کو ضرورت ہی نہیں تھی قرآن کریم کی آیات سے اس استدلال کی جو مجھے آج ضرورت پڑ گئی، میرے رب نے مجھے وہ سکھا دیئے اور حکمت اور حکمت تو اب بہت پوچھتے ہیں جب نیا مسئلہ ہو گا نئے معنی ہوں گے تو نئی حکمت بھی بتانی پڑے گی اور اگر ان تین کے نتیجہ میں نیا تزکیہ ہو گا تو وہ پہلوں سے بہر حال مختلف ہوگا اور پہلے تو معروف ہیں یعنی ہر شخص جانتا ہے تو یہاں کچھ زیادہ مل گیا لیکن اپنی عظمت اور شان کے لحاظ سے وہ جو دیوانہ وار