خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 431

خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۱ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء بیان کیا تھا وہ دعا یہ تھی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة : ۱۳۰) اے ہمارے رب ہماری یہ بھی التجا ہے کہ تو انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو ہی غالب اور حکمتوں والا ہے۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے قبول ہوئی اور جو رسول اس دعا کے ذریعہ سے مانگا گیا تھا عاجزانہ جھک کر خدا کے حضور وہ آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، قبولیت دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ کی یہ ساری تدبیر تھی انسان کے ہاتھ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے خدا کا ہی منصوبہ تھا، وہ ہمیں میں یہ جو ابھی ایک آیت پڑھوں گا اس سے پتا لگے گا لیکن اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَ كَيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: ۱۳۰) یہ جو چار مقاصد لے کے دنیا کی طرف آنے والے رسول کے لئے دعا کی گئی تھی یہ قرآن عظیم میں اس یہ البقرۃ کی آیت ۱۳۰ ہے اس کے علاوہ چار اور جگہ بالکل انہیں چار مقاصد کا ذکر ہے کچھ زوائد کے ساتھ۔سورۃ بقرۃ کی ہی ایک اور آیت ہے اور وہ ۱۵۲ ہے اور اس سے ہمیں پتا لگتا ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول کیا گیا اور وہ نبی جن کو دعا خدا نے سکھائی تھی کہ یہ دعا کر ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں، یہ لمبا مضمون میں نے اس میں بیان کیا ہے وہ تعلق رکھنے والے ہیں تمہارے خونی رشتہ کے لحاظ سے یا آپ کی تعلیم کے پیچھے چلنے والے ان کو تیار کر ومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے جب آپ نازل ہوں دنیا کی طرف اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کے حضور ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے والے ہوں ان کے اندر یہ ہمت ہو اور ان کے اندر اس تربیت کے نتیجہ میں جو دو ہزار سال تقریباً ان کی ہوگی اس وقت وہ ان کے اندر طاقت ہوگی ان کو پریکٹس ہوگی وہ قربانیاں دینے کی۔بڑا لمبا سلسلہ یہ چلا ہے کسی کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہ اولا د جو تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ تو جانی دشمن بن گئے تھے روسائے مکہ