خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 335

خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء کتنے روپے بنتے ہیں نیز غانا میں اور کسی کو پتہ ہے؟ ( آپ کو بتایا گیا کہ ساڑھے نو سولا کھ روپے) all-right ) تو انہوں نے اب مجھ سے منظوری لی ہے چون لاکھ روپے کی عمارت بنانے کی اور خدا تعالیٰ نے ان کو پیسے دیئے ہیں یہ پھر میں کہہ دوں آپ (ہاں یہ پھر بجا ئیں گے بعد میں نعرے لگا ئیں گے اب ذرا چپ کرو ) یہ لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہے، سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ سے انسان کو پیسہ مل سکتا ہے اگر نہیں مل سکتا تو خدا سے نہیں مل سکتا اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کسی جگہ سے پیسہ نہیں مل سکتا اگر ملتا ہے تو خدا سے ملتا ہے تو یہاں اب یہ ہماری وہاں کوئی مالی لحاظ سے کوئی پوزیشن ہی نہیں تھی ایسا اللہ تعالیٰ نے انقلاب عظیم بیا کیا اب جو ٹا چی مان کی بات کر رہا ہوں نا وہاں اردگرد کے تین چار ملکوں کے وزیر بھی وہاں آ جاتے ہیں اور لکھ پتی وہاں کے جو ہیں وہاں ، ہر ملک میں لکھ پتی ہے، وہ وہاں آ جاتا ہے علاج کرانے کے لئے اتنی برکت ڈالی ہے ہمارے ڈاکٹر کے ہاتھ میں اور شفا رکھی ہے کہ اردگرد کے ملکوں میں بھی شہرت ہے شفا کے لحاظ سے اور جب وہ آتے ہیں تو وہ پیسے دیتے ہیں تو جہاں ہم لاکھوں مریضوں کا مفت علاج کر چکے ہیں یعنی نہ ڈاکٹر نے فیس لی نہ ڈاکٹر نے دوائیوں کے پیسے لئے وہاں ہمیں ایسے آدمی بھی ملتے ہیں جو کہتے ہیں یہ آپریشن کرنا ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانچ ہزار لوں گا سیڈیز یا ایک ہزار سیڈیز لوں گا یعنی نو ہزار روپیہ وہ کہتا ہے ٹھیک ہے وہ تو ایک لاکھ روپیہ بھی دینے کو تیار ہے اتنا پیسہ خدا نے اس کو دیا ہے وہ اس طرح خدا اس کی جیب میں سے نکال کے خدمت خلق کے لئے ویسٹ افریقن ممالک کی دھتکاری ہوئی قوموں کے لئے جس کو کہا گیا تھاblack continent، ان کے دلوں میں نور بھرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے پیسے اکٹھے کرنے کا سامان پیدا کر دیا اور اسلام کی عزت اور وقار کو قائم کرنے کے لئے یہ سارے سامان ہو گئے تو یہ ان کو پہلے بھی میں نے بتایا جو ڈاکٹر میں نے بھیجا اس کو میں نے کہا دیکھو نصرت جہاں سکیم کا اپنا سرمایہ تو بڑا تھوڑا ہے اور آدھا قریباً یہاں تھا اور آدھا باہر تھا کوئی پچیس لاکھ کے قریب کم و بیش باہر کے ملکوں میں پڑا تھا وہاں سے میں ان کو دیتا تھا میں یہ آرڈر کرتا تھا کہ دے دیئے جائیں پانچ سو پاؤنڈ صرف۔میں کہتا تھا چھپر ڈالو اور کام شروع کرو۔باقی خدا برکت ڈالے گا پھر تم محل تیار کر لینا مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔وہاں سے ایک دھیلہ باہر نہیں نکالا گیا نہ کسی کی ذات پر خرچ کیا گیا ہے، ساری رقمیں ، اور خدا نے دیں اور in millions دیں یعنی صرف