خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 330
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء میں اور کتابیں لیتے ہیں اور پڑھتے ہیں اپنے بچوں کو پڑھواتے ہیں۔وہاں میں نے بتایا ہے نا وہ ان ملکوں کی چونکہ فضا غیر متعصبانہ ہے اس واسطے، چھوٹی چھوٹی باتوں میں وہاں تعصب نظر نہیں آتا ہمیں۔انہی کے لئے انہی کا مطالبہ ہے کہ ہمیں کتابیں دیں اور کثرت سے دیں اور بڑے جذبے کے ساتھ۔یہ بڑی عجیب چیز ہے اللہ تعالیٰ نے پھر اسلام کی محبت لوگوں کے دلوں میں شدید کرنی شروع کر دی ہے اس میں ایک شدت پیدا ہوئی ہے۔اچھا مساجد ! کتابیں بھی آجائیں گی انہی کے اندر۔بیرونی ممالک میں پچھیں نئی مساجد اس سال جس کا جلسہ اب ہم کر رہے ہیں نا اس سال چھپیں نئی مساجد تعمیر ہوئیں نائیجیریا میں تین غانا میں پندرہ جن میں سے چار مساجد کی تصویر میں غانا سے ، غانین ہیں وہاں انچارج اس وقت ، عبدالوہاب بن آدم، انہوں نے جلسے سے کوئی دو ہفتے پہلے مجھے بھجوائی تھیں تو میں نے الفضل کو کہا کہ اگر تمہارے پاس جگہ ہو تو یہ بھی شائع کر دو تو انہوں نے وہ شائع کر دیں تو وہ آپ الفضل دیکھیں گے۔تو بڑی خوبصورت ان میں سے تین تو خاصی بڑی اور بڑی خوبصورت۔مساجد ہیں اور یہ وہاں بن گئیں اور انڈونیشیا میں تین اور مشرقی افریقہ میں دو اور سری لنکا میں ایک اور نجی میں ایک مسجد زیرتعمیر ہے اور ایک مسجد کا افتتاح وہ دسمبر کے شروع میں کر چکے ہیں اور گیا نا اور کینیڈا میں تین مساجد کے لئے زمین خرید لی گئی ہے اور اچھی۔اچھا یہ جو ساری ) یہ جو بچھپیں مساجد ہیں نا یہ یہاں والوں کو میں کہتا ہوں اپنے دوستوں کو پاکستانی احمدیوں کو کہ ان میں سے میرا نہیں خیال کہ کسی ایک نے بھی مرکز ، اپنے مرکز ، ہم یہاں سے تو پیسہ نہیں بھیج سکتے مثلاً غانا نے پندرہ مسجدیں بنائی ہیں مختلف جگہوں پر پندرہ جماعتوں نے بنائیں نا ایک جماعت نے بھی غانا کے جماعت احمدیہ کے مرکز کو یہ نہیں کہا کہ مسجد بنانے کے لئے ہمیں تم مدد دو اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو کے بنا ئیں جتنی جس میں ہمت تھی اتنی انہوں نے بنالی تو ہمت کریں یہاں بھی مسجد تو خدا کا گھر ہے جس کو خدا سے پیار ہے وہ خدا کا گھر بننے میں روک نہیں بنے گا لیکن جہاں تک یہ تو ہے نا اس نقطہ نگاہ سے، خدا تعالیٰ کو تو اینٹوں کی یا پتھروں کی یا سنگ مرمر کی مسجد کی ضرورت نہیں وہ تو ہر چیز کا مالک اور خالق، خالق اور مالک ہے اس نے پتھروں کو لے کے کیا کرنا ہے اس کو تو وہ وہ پاک دل چاہیں جو اس کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں نا جو وہاں آ کے عبادت کریں اس