خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 15

خطابات ناصر جلد دوم ۱۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء شریعت محمدیہ نے دستور حیات کو نہایت شرح وبسط کے ساتھ بیان کر دیا ہے دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔آج میں پھر کچھ تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔گلے پر بھی بیماری کا اثر ہے۔کچھ بخار کی کیفیت بھی محسوس کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ذمہ داری کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوست جانتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے دوسرے اور تیسرے دن ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد خلیفہ المسیح امام جماعت احمدیہ کی تقاریر ہوتی ہیں۔دوسرے دن کی تقریر میں عملاً أن فضلوں کا شمار ہوتا ہے جو دورانِ سال یا اس سے تعلق رکھنے والے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جماعت پر نازل ہوتے رہے۔اور ہم رُوح کی گہرائیوں سے یہ دُعائیں کرتے ہیں کہ آنے والا سال اور آنے والا زمانہ پہلے سال اور زمانہ سے زیادہ برکتیں اور رحمتیں لے کر آنے والا ہو۔جماعت احمد یہ دُنیا کے مختلف حصوں میں حقوق العباد یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے جو حقوق ہیں، اُن کی ادائیگی کے سلسلہ میں مختلف منصوبوں کے ماتحت کام کرتی رہتی ہے۔ہمارے یہ مختلف منصوبے اور کام ایک سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ان کاموں کی بنیاد اور وجہ یعنی یہ کہ ہم کیوں باہر نکل کر کام کرتے ہیں، یہ ہے کہ ہم نے غور کیا۔ہم نے مطالعہ کیا ہم نے تاریخ کے اوراق اُلٹے۔ہم نے کوشش کی کہ ہم قرآن کریم کی تعلیم کی گہرائیوں میں اتریں اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ تھی کہ نوع انسانی کو امت واحدہ کی شکل میں بنادیا جائے۔ساری دنیا ایک خاندان اور ایک امت بن جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت رکھتی ہو اور خدا کے محبوب محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیار ہردل میں دھڑک رہا ہو۔