خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 208

خطابات ناصر جلد دوم ۲۰۸ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء الَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (الرَّحْمنِ : ۲ تا ۹) سورۃ رحمان کی ان آیات میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہے وہ کسی عمل کرنے والے کے عمل کے بغیر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے انسان ابھی اس کرہ ارض پر پیدا نہیں ہوا تھا کہ یہ زمین اور یہ آسمان آدم یعنی پہلے انسان کے استقبال کے لئے تیاریاں شروع کر چکے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کے لئے ہاتھ میں ایک تو قرآن کریم دے دیا فرمایا عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن :٣) اور دوسری طرف فرمایا خَلَقَ الْإِنْسَانَ (الرحمن : ۵) انسان کو اس نے بے انتہا قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا کر دیا اور تیسرے یہ کہ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن : ٦) اس کو بیان کرنے کی طاقت دی جس کے نتیجہ میں انسان کے ہاتھ میں تاریخ آئی خطوط اور مراسلات آئے اور علمی تحقیق کی جو findings تھیں اور جونتائج نکلے تھے وہ انسان کو ملے اس لئے کہ ہمار خدا رحمان خدا ہے اس نے رحمانیت کے جوش میں انسان کو قرآن کریم دیا اور وہ ساری قوتیں اور طاقتیں عطا کیں جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرنے والی ہیں اور اسے بیان دیا جس کے نتیجہ میں تاریخ کا مدون کرنا آسان اور ممکن ہو گیا اور خطوط اور مراسلات کا ایک طریق جاری ہوگیا اور علمی تحقیق سے یہ ثابت ہو گیا کہ چاند اور سورج اور ستارے اور جڑی بوٹیاں اور درخت وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہیں رحمان خدا نے ان کو قانون قدرت میں باندھ دیا ہے اور آسمان کو اتنا بلند کر دیا ہے کہ آج کا مہذب اور ترقی یافتہ انسان علمی میدانوں میں اس عالمین کے ورلے کناروں پر کھڑا ہے تو جاہل لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اس عالمین کو فتح کر لیا ہے لیکن سائنسدان اب بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے ( پنجابی کے ایک محاورہ کے مطابق ) عالمین کو ابھی بھورا ہے یعنی ناخنوں سے کھرچ کے ذراسی چیز ان کے ہاتھ میں آئی ہے اور اس پر انہوں نے ریسرچ کی ہے گویا اس کا ئنات میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ ہمارے ذہن میں نہیں آسکتیں یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَضَعَ الْمِيزَانَ الرَّحْمٰنِ : ۸) کہ خدا نے اس یو نیورس اس عالمین میں توازن (Balance) کا اصول قائم کیا ہے خدا نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ اس میزان کو un set کر سکے لیکن ا۔کو un set کر سکے لیکن اسے حکم یہ دیا ہے کہ تم نے unset نہیں کرنا ورنہ فساد پیدا ہو جائے۔مختصراً ایک دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَنزَلَ الكتب بِالْحَقِّ (الشورى : ١٨)