خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 191

خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۱ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء جہاں جا کر ہم ما نگتے ہیں۔پس جب میں کہتا ہوں کہ ملنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ میں اور آ ہم سب خدا کے دروازے کو کھٹکھٹائیں اور اسے کہیں کہ اے خدا ایسے حالات پیدا کر کہ جوحق تو نے ہمارا قائم کیا ہے ہمارا وہ حق ہمیں ملنا شروع ہو جائے اور وہ سب قدرتوں کا مالک ہے وہ اس طرح کرے گا۔انشاء اللہ۔ادارۃ المصنفین بھی ایک شعبہ ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتب شائع کرنے کے لئے قائم کیا تھا۔تفسیر صغیر انہی کے ذریعے شائع ہوئی تھی اور تفسیر کبیر بھی۔وہ کہتے ہیں کہ تفسیر کبیر کی پانچویں جلد جو سورۃ یونس تا کہف تک کے حصے پر مشتمل ہے زیر طبع ہے اسی طرح تفسیر صغیر کا نیا ایڈیشن بھی زیر طبع ہے۔بہت سے دوست شکوہ کرتے ہیں کہ وہ ہل نہیں رہی اب انشاء اللہ چھپ جائے گی۔اس جلسے سے پہلے میری خلافت کے زمانہ میں دس جلسے ہوئے ہیں ان دس جلسوں کی افتتاحی تقاریر کے کچھ حصے مختلف موضوعات سے تعلق رکھنے والے ہیں اور کچھ دعائیہ ہیں۔دعائیہ حصے اردو میں چھپ چکے ہیں۔وہ آپ اپنے پاس رکھیں وہ قرآن کریم سے لی ہوئی دعائیں ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے لی ہوئی دعائیں ہیں۔بڑے کام کی دعائیں ہیں۔اُن الفاظ میں بھی کیا کریں اور اپنے الفاظ میں بھی دعائیں کیا کریں۔بہر حال وہ کتاب اس وقت موجود ہے۔شبہات وغیرہ کے روڈ پر قاضی محمد نذیر صاحب نے ایک کتاب ”ازالہ شبہات لکھی ہے وہ چھپ چکی ہے۔تحریک احمدیت اور ختم نبوت نامی کوئی کتاب ہمارے خلاف چھپی تھی اس کا جواب چھپ چکا ہے۔قریش محمد اسداللہ صاحب کا شمیری کی کتاب ”امام مہدی کا ظہور چھپ چکی ہے۔”نشانِ آسانی“ اور دیگر رسالے چھپتے رہتے ہیں۔ادارۃ المصنفین کی طرف سے بخاری شریف کی پندرہویں جلد، پندرہواں پاره نیز ” خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھپ گئی ہیں۔گیانی عباداللہ صاحب کی کتاب "غلبہ اسلام اور سکھ مت ہے۔اسی طرح ماہنامے ہیں رسالہ الفرقان ہے، ماہنامہ انصاراللہ ہے، ماہنامہ خالد ہے، ماہنامہ تحیر الاذہان ہے، ماہانہ مصباح ہے، ماہانہ تحر یک جدید ہے پھر روز نامہ الفضل ہے۔وکالت تبشیر نے مختلف جگہوں پر مختلف زبانوں میں جو کتب شائع کی ہیں ان میں دعوۃ الا میر کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے "Life of Mohammad" عبدالسلام صاحب میڈسن کی طرف