خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 739 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 739

۵۹ آپ عبودیت تامہ کاملہ کے ارفع اور اعلیٰ روحانی طور پر کوئی فیض آپ کی اتباع کے مقام پر فائز تھے ۳۹ بغیر نہیں مل سکتا آپ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ تکالیف اگر تم میری پیروی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے برداشت کیں کہ جن کے تصور سے رونگٹے محبت کرنے لگ جائے گا کھڑے ہوتے ہیں ۱۳۹ ہر جگہ نبی کریم نے بطور لیڈر اور بطور قائد متی زندگی میں کون سا ظلم تھا جس کا آپ آگے ہوئے نشانہ نہ بنے وہ کون سی بے عزتی تھی جو آپ جس چیز سے بھی نبی کریم ﷺ تمہیں کو دیکھنی نہ پڑی تیرہ سال تک دشمن کی جلائی ہوئی آگ میں بظاہر آپ جلائے گئے ۱۳۹ ۱۳۹ روکیں رک جاؤ کہ تقوی اسی میں ہے ۲۳۰ ۲۳۳ ۲۳۳ ۲۳۵ آپ نے فرمایا میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے ۲۴۴ آپ جو عید ہمارے لئے لے کر آئے وہ عید دنیا آپ کو آگ میں دیکھ رہی تھی اور آپ خود کو جنت میں محسوس کر رہے تھے ۱۳۹ قیامت تک چلنے والی ہے ۲۶۹ آپ کی مدنی زندگی کے دوانتہائی کٹھن اور آپ کے خلاف مکی زندگی میں تیرہ سال مخالفت کی آگ بھڑکائی گئی ۱۳۹ تکلیف دہ واقعات کا تذکرہ ۲۶۶تا۲۶۸ خلافت حقہ کا حق ادا کرنے والے انسان آپ کی تیرہ سالہ مگی زندگی کا ایک ایک لحظہ ۱۳۹ کامل محمد علے ہیں آپ کی صداقت کا گواہ ہے آپ کی روح اپنے رب کے حضور جھکی اور جس کے معرض وجود میں آنے کے لئے ۱۳۹ ساری کائنات کو پیدا کیا گیا بالکل گداز ہوگئی آپ نے جو تکالیف برداشت کیں ان کے آپ سے زیادہ کوئی کامل انسان نہیں کیونکہ ۱۳۹ آپ ہی انسان کامل ہیں تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں کسی ماں نے آنحضرت ﷺ سے افضل آپ سے زیادہ بلند اور ارفع شان رکھنے والا کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں بچہ نہیں جنا ۱۳۹ جب تک تم مجھے اسوہ نہیں بناؤ گے اللہ تعالیٰ وہ انسان کامل جس نے خلافت حقہ کا کی تائید ونصرت حاصل نہیں ہو سکے گی ۱۴۰ حق ادا کیا سب سے اعلیٰ اور ارفع اور کامل اور مکمل نمونہ آپ بلند تر مقام تک جہاں انسان اپنی روحانی ارتقاء میں پہنچ سکتا تھا وہاں پہنچے اور اسوہ محمد رسول اللہ ہی کی ذات ہے ۱۴۱ ٣٠٣ ۳۱۲ ۳۱۲ ۳۱۲ ۳۱۲ ۳۱۳