خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 673 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 673

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب کرتے ہیں لیکن جو ملک ابھی نئے نئے آزاد ہوئے ہیں مثلاً ہمارا ملک ہے یہ بھی نیا نیا آزاد ہوا ہے۔اس میں بھی گودیر سے اجازت ملے گی لیکن کسی نہ کسی وقت اس کی اجازت ضرور مل جائے گی لیکن جہاں اس قسم کی نشریات کی آزادی ہے وہاں تو کام شروع کر دینا چاہئے۔مختلف کلبز (Clubs ) بن جائیں اور آپس میں پیغامات کا تبادلہ کریں۔ایک دوسرے کو بتائیں کہ ایسا موسم ہے مثلاً اگر یہاں بھی اس کی اجازت ہوتی تو آپ دوسرے ممالک کے لوگوں کو بتاتے کہ صبح سے یہاں شدید دھند پڑی ہوئی ہے اور سردی بھی بہت ہے۔ایسی سردی تو ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی مگر ایمان کی حرارت بھی عجیب چیز ہے کہ دوست اس سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔سانس ٹھیک طرح سے آنہیں رہا۔منہ سے بخارات دھواں بن کر نکل رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جلسہ میں شامل ہونے والا ہر آدمی سگریٹ پی رہا ہے لیکن بایں ہمہ دوست بیٹھے ہوئے ہیں اور جلسہ کی تقاریر سن رہے ہیں۔تیسری بات جو بین الاقوامی سطح پر کی جائے گی وہ آپس میں قلم دوستی ہے۔بعض ملکوں سے ہمیں اس غرض کے لئے ہزاروں آدمی مل جائیں گے ( بعض ملکوں سے کم ملیں گے ) جو آپس میں خط و کتابت کریں گے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا یہ کام ایک انتظام کے ماتحت ہونا چاہئے۔مثلاً سوئٹزرلینڈ میں کچھ درجن احمدی ہیں۔اگر ان میں سے ایک پاکستان کے ایک احمدی سے خط و کتابت کر رہا ہو اور دوسرا امریکہ کے ایک احمدی سے، تیسرا نائیجیریا کے ایک احمدی سے، چوتھا انڈونیشیا کے احمدی سے، پانچواں نجی کے ایک احمدی سے تو جس وقت اتوار کے دن اکٹھے ہوکر باتیں کریں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہوا ہے نجی کی جماعت پر کہ انہوں نے اتنے قرآن کریم ہوٹلوں میں رکھوا دیئے ہیں۔اسی طرح دوسرا کہے گا نائیجیریا کے احمدی دوستوں پر کتنا فضل ہوا کہ میرے دوست نے خط لکھا ہے کہ سو بُت پرستوں نے اپنے بتوں کو جلا دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرا دیا۔پس ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تو بڑی نازل ہو رہی ہیں ہم ابھی ان کو سمیٹنے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔اس ( قلم دوستی ) سے بھی ساری دنیا کو امت واحدہ بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔ہم ایک دوسرے کے حالات قریب سے جاننے لگ جائیں گے۔امت واحدہ بنانے کے سلسلہ میں چوتھی بات یہ ہے کہ پہلے دنیا کے کسی مناسب مقام پر