خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 585 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 585

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب ہے۔ظاہر ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دودھ پیدا نہیں کر سکتی۔خدا کا منشاء ہو تو دودھ پیدا ہوتا ہے ورنہ دودھ پیدا نہیں ہوتا۔بچہ کی پیدائش سے ربوبیت شروع ہو جاتی ہے۔چند دنوں کا بچہ پھر طفل بنتا ہے۔پھر وہ طفل کی عمر سے نکل کر خادم کی عمر میں داخل ہوتا ہے۔علم میں کمال حاصل کرتا ہے پھر وہ علمی کمال حاصل کر لیتا ہے تو عمل کے میدان میں آ جاتا ہے۔ہر جگہ اور ہر قدم پر اسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی ضرورت ہوتی ہے دراصل خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت اور عرفان کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان کو اپنے دائرہ استعداد کے اندر خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے پیدا کیا ہے مظہر صفات باری بننے کے لئے پہلے سانس سے لے کر آخری سانس تک اُسے جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ ساری اس کے لئے مہیا کر دی گئیں۔انسان کو زندگی کی ضرورت تھی اُسے طاقتوں کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنی ذہنی قوتوں سے صحیح اور بھر پور کام لینے کے لئے غذا کی ضرورت تھی۔اس کو اخلاق کے اظہار کے لئے مادی ذرائع کی ضرورت تھی۔اخلاق کا اظہار بھی مادی ذرائع کا محتاج ہے۔یہ نہیں کہ آپ اپنے اخلاق کا اظہار سفر کسی مادی ذریعہ سے کر سکیں۔مثلاً ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے کپڑے کی ضرورت ہے۔آپ اس سے پیار کرتے ہیں اور اس کے لئے کپڑے کا انتظام کر دیتے ہیں۔اگر آپ کے پاس کپڑا ہی نہ ہو تو آپ کیا کریں گے۔ایک شخص کو گندم کی ضرورت ہے ایک شخص کو اس بات کی ضرورت ہے جذباتی لحاظ سے کہ جو اس کو ملے وہ مسکراتے چہرے سے ملے۔میں نے جماعت کو کہا تھا۔اس جلسہ سے پہلے بھی اور یہاں بھی آکر کہا کہ دُنیا تیوریاں چڑھا کر اور سُرخ آنکھیں نکال کر تمہاری طرف دیکھتی ہے۔تم اس کی طرف مسکراتے چہروں سے دیکھو۔چنانچہ مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ چھوٹے چھوٹے بچے ملاقاتوں کے دوران مسکراتے اور کھلے ہوئے چہروں کے ساتھ ملتے تھے۔دنیا قطع نظر اس کے کہ غلط ہے یا صحیح وہ اپنا طریق اختیار کرتی ہے۔ہمیں اس سے سروکار نہیں۔ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ جس چیز کی انسان کو اس وقت ضرورت ہے وہ اس کو ملنی چاہئے اور عام طور پر انسان کو مسکراتے چہروں کی ضرورت ہے۔اس لئے دوستوں کو ہر ایک سے مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا چاہئے۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مسکرانے والا چہرہ عطا نہ کرتا۔جیسا کہ حدیث میں آتے