خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 553
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۵۳ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ترجمہ مکمل ہو چکا ہے ”دعوۃ الا میر کا سواحیلی ترجمہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ترکی ترجمہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ترکی میں ہم ابھی تک اپنا مشن قائم نہیں کر سکے لیکن ترکوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے احمدیت کا پیار پیدا کیا ہوا ہے۔گو وہاں مشن ! نہیں لیکن پھر بھی چند ایک دوست احمدی ہو چکے ہیں۔جو دوست وہاں جاتے ہیں وہ یہ رپورٹیں لے کر آتے ہیں کہ وہ بڑے پیار سے باتیں سنتے ہیں۔جو ترک مزدور سوئٹزر لینڈ اور جرمنی میں کام کر رہے ہیں وہ عیدین اور بعض دوسرے مواقع پر مسجد میں آ کر خادموں کی طرح کام کرتے ہیں۔ابھی انہوں نے گو بیعت نہیں کی لیکن بعض چھوٹی چھوٹی باتیں اُن کا احمدیت کی طرف میلان ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں۔مثلاً ایک ترک نے کہا کہ ہم احمدیت کو کیسے قبول کر لیں جب کہ ہم حنفی کے لفظ کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ایک تاریخی پس منظر ہے جس کی وجہ سے حنفی کا لفظ ان کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔میں نے اپنے دوست سے کہا تم عجیب ہو تمہیں ان کو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ پہلے آپ حنفی مسلمان تھے اب تم حنفی احمدی مسلمان بن جاؤ گے۔اگر تم حنفی کا لفظ پنے ساتھ رکھو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔علاوہ ازیں اسپینش زبان میں کمیونزم اینڈ ڈیموکریسی ( Communism and Democracy) کا ترجمہ مکمل کروالیا گیا ہے پھر اسی سپینش زبان میں ” میں اسلام کو کیوں نہیں مانتا کو پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا ہے۔میرا افریقہ کے نام ایک چھوٹا سا پیغام تھا محبت اور اخوت کا پیغام اسے تحریک جدید نے پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کیا ہے۔اسی طرح امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ بھی شائع کیا گیا ہے۔حرف انتباہ کے متعلق جیسا کہ دوست جانتے ہیں ایک بڑا ز بر دست انتباہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ چھوٹا سا مضمون ۱۹۶۷ء میں انگریزی میں تیار ہوا تھا۔جرمن زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ڈینیش زبان میں بھی ہو چکا ہے اور میرا خیال ہے ترکی زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔یہ کتاب یہاں بھی شائع کی گئی ہے۔اس کی بھی اشاعت ہونی چاہئے۔کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلبہ اسلام کے لئے جو عظیم بشارتیں دی ہیں اور حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے ہم تک پہنچائی ہیں۔ان عظیم بشارتوں کا اس میں ذکر ہے اور بڑے دھڑلے کے ساتھ اور بڑی تحدی کے ساتھ دنیا کو کہا گیا ہے