خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 352 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 352

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب میں ترجمہ پڑھنے کی بھی ہمیں عادت ہونی چاہئے اور خصوصاً عربی کا جو حصہ ہے جسے ناظرہ پڑھنا کہتے ہیں اسے غور سے خود پڑھنا چاہئے اور تلفظ صحیح رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ قرآن کریم سے ہمارے دل میں جو محبت پائی جاتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم عربی الفاظ ادا کرنے کے قابل ہوں ، جہاں تک ممکن ہو ان کو سمجھنے کے قابل ہوں محض ترجمہ یا تفسیر پر انحصار نہ کرنے والے ہوں۔پس اس سال کے دوران ایک تو قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ مع تفسیری نوٹ شائع ہوا؟ ہے دوسرے سورۃ فاتحہ کی وہ تفسیر جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف کتب اور تقاریر میں بیان فرمایا ہے اسے اکٹھا کر کے یکجا طور پر کتابی شکل میں ادارہ مصنفین کی طرف سے تفسیر سورۃ فاتحہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔یہ مضمون جو کتابی شکل میں اکٹھا ہوا ہے اسے میں جو ہے نے اس وقت تک تین چار دفعہ پڑھا لیا ہے۔جن دوسرے صاحب علم اور صاحب فراست اور صاحب محبت الاسلام نے اسے پڑھا ہے ان پر بھی اسی طرح اکٹھی شکل میں خاص اثر ہوا ہے اور یہ سورہ فاتحہ کی بڑی ہی عجیب تفسیر ہے۔اس تفسیر کو پڑھ کر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس چیلنج کا صحیح پتہ لگتا ہے جو آپ نے پادریوں کو دیا۔جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک بھی تو رات ایک الہامی کتاب ہے پھر اس الہامی کتاب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم کی تو بات چھوڑ وسورۃ فاتحہ میں جو روحانی اور اخلاقی علوم بیان ہوئے ہیں اور اسرار بتائے گئے ہیں۔اگر تم اس سورۃ کے اسرار روحانی کے مقابلے میں اپنی ساری الہامی کتب سے جو ۷۲ کے قریب ہیں۔یہ مضامین اس کے ملتے جلتے مضامین یعنی آپ نے فرمایا کہ ہم بہتر کا مطالبہ نہیں کرتے ایسے ہی ان سے ملتے جلتے مضامین نکال کر ہمیں دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے لیکن عیسائیت کے عمل نے دنیا پر یہ ظاہر کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے مقابلہ میں ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔میں جب یورپ کے دورے پر گیا تو میں نے وہاں کے پادریوں کے سامنے اس چیلنج کو دھرایا۔جب میں اس چیلنج کو دھرا ہی رہا تھا تو دراصل اس وقت مجھے ایک خیال آیا اور میں نے سوچا کہ اگر یہ پادری کہیں کہ اچھا ہم مقابلہ کرتے ہیں کہاں ہے سورۃ فاتحہ کی وہ تغیر تو میں کہوں گا کہ مختلف کتابوں میں وہ بکھری ہوئی ہے۔ذراسی بات پر مجھے شرمندہ ہونا پڑے گا۔پس اس وقت میں نے ارادہ کیا کہ اسے اکٹھا