خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 106
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ----- 1+4 ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار کو ایک کروڑ بانوے لاکھ روپیہ سے اوپر کی آمد ہوئی ہے۔یعنی پہلے تین سال کا مطالبہ تحریک جد کی مالی قربانیوں کا تین لاکھ کا تھا اور بعد میں ۱۹۴۵ ء کے بعد ۲۳ سال میں غیر ممالک کی جماعتوں نے قریباً دو کروڑ روپیہ تحریک جدید کے کاموں کے لئے پیدا کیا ہے۔اور یہ ذرائع آمد باہر کے کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ درجنوں ممالک جو ہیں وہ آمد پیدا کر رہے ہیں اور اس طرح پر جماعت کا قدم دنیا میں بین الاقوامی جماعت کی حیثیت سے بڑی مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے مطابق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک بندے محمود کو دیا تھا ابتداء میں تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا مطالبہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے پہلے تین سال کا مطالبہ تین لاکھ دس ہزار روپیہ کا تھا۔اب تک تحریک جدید کی مجموعی آمد تین کروڑ اسی لاکھ سے اوپر نکل گئی ہے یعنی تین کروڑ چھیاسی لاکھ۔یعنی ہر لاکھ کے مقابلہ میں سو گنا زیادہ۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے ہمارے اندر ایک خواہش ایسی پیدا کی جو اس وقت انہونی تھی اور انسان کا دل سمجھتا ہے کہ یہ بھی مل جائے تو یہ بڑا ہی فضل ہے خدا کا۔اور پھر جب دینے پر آیا تو اس نے سو گنا زیادہ دے دیا تا کہ طبیعت میں سرور اور بشاشت پیدا ہو۔یہ تو تحریک جدید کے متعلق ضروری تمہید تھی اب میں تحریک جدید کے گزشتہ سال کے کام جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ جماعت خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہے کہ وہ کس طرح ہماری بالکل حقیر کوششوں میں برکت پہ برکت ڈال رہا ہے اور اپنے فضلوں سے ہمیں نواز رہا ہے۔پہلا اور بنیادی کام ہماری جماعت کا اشاعت قرآن ہے۔چنانچہ میں نے گزشتہ سال جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ بات تفصیل سے رکھی تھی کہ بہت سے تراجم غیر زبانوں میں ہو چکے ہیں۔بہت سے تراجم زیر طبع ہیں اور بعض عنقریب تیار ہو جائیں گے اور بعض پر ابھی کچھ وقت لگے گا اور بعض زبانوں میں ایسے تراجم ہیں جن کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہیئے ابھی تک ہمیں ایسے ذرائع میسر نہیں آئے کہ ہم ان تراجم کی طرف متوجہ ہوں۔جماعت یہ سن کر خوش ہوگی کہ ڈینیش زبان میں گزشتہ سال قرآن کریم کے سات پاروں کا ترجمہ شائع ہوا تھا لیکن امسال پورے قرآن کریم کا ترجمہ مکمل ہو کر شائع ہو چکا ہے اور اس کی ایک کاپی وہاں سے روانہ ہو چکی ہے۔مجھے امید تھی کہ وہ آج کی ڈاک میں پہنچ جائے گی اور میں دوستوں کو اگر چہ دور سے ہی ہو دکھا دوں