مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 61 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 61

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں تاریخ الخلفا میں لکھا ہے کہ: 17 رمضان المبارک 40 ھ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علی اصبح بیدار ہو کر اپنے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رات میں نے خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے میرے ساتھ کج روی اختیار کی ہے اور اس نے سخت نزاع بر پا کر دیا ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں مجھ سے فرمایا کہ تم اللہ سے دعا کرو۔چنانچہ میں نے بارگاہِ ربّ العزت میں اس طرح دعا کی کہ الہی! مجھے تو ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور میرے بجائے ان لوگوں کا ایسے شخص سے واسطہ ڈال جو مجھ سے بدتر ہو۔ابھی آپ رضی اللہ عنہ یہ فرما ہی رہے تھے کہ اتنے میں ابن نباح مؤذن نے آکر آواز دی الصَّلوة! الصَّلوة! چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھانے کے لیے گھر سے چلے۔راستے میں آپ لوگوں کو نماز کے لیے آواز دے دے کر جگاتے جاتے تھے کہ اتنے میں سے سامنا ہوا اور اس نے اچانک آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار کا ایک بھر پور وار کیا۔وار اتنا شدید تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ تک جا کر ٹھہری۔اتنی دیر میں چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا۔یہ زخم بہت کاری تھا پھر بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ جمعہ و ہفتہ تک بقید حیات رہے مگر اتوار کی شب آپ رضی اللہ عنہ کی روح بارگاہ قدس میں پرواز کر گئی۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، امام حسن رضی اللہ عنہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی دار الامارت کوفہ میں رات کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔“ ابن (تاریخ الخلفاء - صفحه 373 تا374 ترجمہ: علامہ شمس بریلوی۔شائع کردہ پروگریسو بکس) 61