مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 26 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 26

وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چتا ہے جس کے متعلق دنیا سمجھتی ہے کہ اسے کوئی علم حاصل نہیں، کوئی رُوحانیت، اور بزرگی اور طہارت اور تقویٰ حاصل نہیں۔اسے وہ بہت کمزور جانتے ہیں اور بہت حقیر سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور نیستی کا لبادہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں کہتا ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے، یہ بندہ بے شک نحیف، کم علم، کمزور، کم طاقت اور تمہاری نگاہ میں طہارت اور تقویٰ سے عاری ہے لیکن اب یہ میری پناہ میں آگیا ہے اب تمہیں بہرحال اس کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انتخاب خلافت کے وقت اسی کی منشا پوری ہوتی ہے اور بندوں کی عقلیں کوئی کام نہیں دیتیں۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (الفضل 17 مارچ 1967ء) ”سارا عالم اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اور خدا کی پسند اس شخص پر انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے۔66 (خطبہ جمعہ 2 اپریل 1993 پہفت رہبرہ بدر 6 مئی 1993ء صفحہ 4) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یوم خلافت کے حوالے سے جماعت احمد یہ راولپنڈی کے نام پیغام میں فرمایا: ”ہمارا یہ ایمان ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ خود بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں ہوتا۔جسے اللہ یہ کرتہ پہنائے گا کوئی نہیں جو اس کرتے کو اس سے اُتار سکے یا چھین سکے۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے جسے لوگ بعض اوقات حقیر بھی سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت او ر جلال کا ایک ایسا جلوہ فرماتا ہے کہ اس کو وجود دنیا سے غائب ہو کر خدا تعالیٰ کی قدرتوں میں چھپ جاتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور اپنی تائید و نصرت ہر حال میں اس کے شامل حال رکھتا ہے اور اس کے دل میں اپنی جماعت کا درد اس طرح پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ اس درد کو اپنے درد سے زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے اور یوں جماعت کا ہر فرد یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کا درد رکھنے والا ، اس کے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا اس کا ہمدرد ایک وجود موجود ہے۔“ حدیث نبوی: نظام خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری : روزنامه الفضل 30 مئی 2003 صفحہ 2) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: إِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزِمُهُ وَإِنْ نُهِكَ جِسْمُكَ وَأُخِذَ مَالُکَ۔یعنی اگر تو اللہ کے خلیفہ کو زمین 26