مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 230 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 230

دور خلافت رابعہ کے آخری لمحات: 19 اپریل 2003ء کا دن جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت عظیم سانحہ کا دن تھا اس لئے کہ اس دن ہمارے دلوں کی ނ دھڑکن، ہمارا پیارا، ہمارے دل کا سہارا، ہمارا محبوب قائد، وہ وجود جو سینکڑوں وجودوں اور بے شمار خصائل کا مجموعہ تھا ہم اچا نک جدا ہو گیا۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ 18 دسمبر 1928 ء کو پیدا ہوئے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی مقدس زندگی کی 75 بہاریں یوں لگتا پلک جھپکتے ہی گزر گئیں مگر یہ 75 بہاریں اپنے اندر اتنی بے شمار یادیں سمیٹے ہوئے ہیں کہ ان کا کئی کتابوں میں سمونا مشکل ہے۔اتنی لمبی اور طویل یادوں کی فلم جب ہمارے سامنے آتی ہے اور دوسری طرف اس مقدس وجود کی المناک رحلت کا تصور کرتے ہیں تو دل بے شمار اداسیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے روز ہی آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کا جسد اطہر دیدار کے لئے بیت الفضل لندن کے احاطے میں رکھ دیا گیا۔محمود ہال میں قطار اندر قطار دنیا بھر کے احمدی مرد و زن دیدار کے لئے حاضر ہوئے۔ایم ٹی اے کی بدولت دیدار کے مناظر پوری دنیا میں دیکھے گئے۔آخری دیدار کا یہ سلسلہ اگلے دو روز تک جاری رہا۔23 اپریل بروز بدھ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے جسد مبارک کو ایک قافلے کی صورت میں بیت الفضل لندن سے اسلام آباد ٹلفورڈ (Tilford) لے جایا گیا۔روانگی اور اسلام آباد کے فضائی اور زمینی مناظر ایم ٹی اے پر نشر کئے گئے۔اس مقدس قافلے کے ساتھ ساتھ ایک پولیس سکواڈ Police) (Squad بھی تھا۔اسلام آباد میں جسد اطہر کو ایک چھوٹی مارکی میں رکھا گیا۔نماز ظہر و عصر کی ادائیگی، خطاب اور عالمی بیعت کے بعد حضرت خلیفة أسبح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کا جنازہ پڑھایا۔جسد اطہر کو مسلسل کندھا دیا اور پھر تدفین کی پوری کارروائی کے دوران قبر کے پاس موجود رہے۔سب سے پہلے آپ ایدہ اللہ تعالی نے قبر میں مٹی ڈالی اور پھر دوسرے احباب کو موقع دیا گیا۔لندن وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے سہ پہر اور پاکستان کے وقت کے مطابق 8:30 بجے رات قبر تیار ہونے پر حضرت خلیفہ اُسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔دعا سے پہلے قبر پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام کی تختی بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہی نصب فرمائی۔دور خلافت خامسه الفضل 25 اپریل 2003 صفحہ 1) قدرت ثانیہ کے مظہر خامس: سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی المناک وفات کے بعد جماعت بہت بے تابی اپنے نئے عظیم روحانی لیڈر کی منتظر تھی اور احمدی بڑی بے قراری سے دعاؤں میں مصروف تھے۔خدا تعالیٰ نے ان عاجزانہ دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے 22 اپریل 2003ء کو حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو قدرت ثانیہ کو مظہر خامس کے طور پر منتخب فرمایا اور ایک بار پھر ہمارے خوف کو امن سے بدل دیا۔قدرت ثانیہ کے مظہر خامس کے مختصر حالات درج ذیل ہیں: آپ ایدہ اللہ تعالٰی 15 ستمبر 1950ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب مرحوم اور محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم کے ہاں ربوہ میں پیدا ہوئے۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے پوتے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ سے میٹرک کیا اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے بی اے کیا۔1976ء 230