خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 341
۳۳۷ تعلیم کا کوئی معقول انتظام بھی کیا جائے تا پیشہ وروں کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔اسی طرح ایگریکلچرل تعلیم کا بھی ہو تا زمینداروں کی حالت بھی درست ہو سکے۔خلفاء کا ایک کام میں سمجھتا ہوں اس عہدہ کا استحکام بھی ہے۔میری خلافت پر شروع سے ہی پیغامیوں کا حملہ چلا آتا ہے مگر ہم نے اس کے مقابلہ کے لئے کما حقہ توجہ نہیں کی۔بیس اس فنڈ سے اس قوم کی ہدایت کے لئے جدو جہد کرنی چاہئے اور اس کے لئے بھی میں کوئی تجویز کروں پس یہ خلفاء کے چار کام ہیں اور انہی پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔پہلے اسے کسی نفع مند کام میں لگا کر ہم اس سے آمد کی صورت پیدا کریں گے اور پھر اس آمد سے یہ کام شروع کریں گے۔ایک تو ایسا اصولی لٹریچر شائع کریں گے کہ جس سے ہندو، سکھ اسلامی اصول سے آگاہی حاصل کر سکیں۔اب تک ہم نے ان کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔پیس اب ان کے لئے لٹریچر شائع کرنا چاہئے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ اتنا مختصر ہو کہ اسے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر سکیں۔پھر ایک حصہ مسلمانوں میں تبلیغ پر خرچ کیا جائے۔ایک آرٹ ، سائنس، انڈسٹری اور زراعت وغیرہ کی تعلیم پر اور ایک حصہ نظام سلسلہ پر دشمنوں کے حملہ کے مقابلہ کے لئے۔آہستہ آہستہ کوشش کی جائے کہ اس کی آمد میں اضافہ ہوتا رہے اور پھر اس آمد سے یہ کام چلائے جائیں۔اس روپیہ کو خرچ کرنے کے لئے یہ تجویزیں ہیں۔“ ( تقریر بجواب ایڈریسہائے جماعتہائے احمدیہ۔انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۴۳۴ تا ۴۳۸) اہم یہ وہ سکیم تھی جس کی بنیاد وہ رقم تھی جو جو بلی کے روز خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں پیش کی گئی۔اس رقم کا مصرف اسی سکیم کے مطابق شروع ہوا اور یہ رقم تقسیم ہو کرختم نہیں ہوئی بلکہ اسے نفع