خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 248
۴۵ اسٹونیا جرمنی کے سپر د تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نو افراد پر مشتمل جماعت قائم ہوگئی۔انٹی گواغرب الہند (ویسٹ انڈیز) کا ایک جزیرہ ہے۔وہ ٹرینیڈا کے سپر د تھا۔وہاں تبلیغ کے ذریعہ ۲ عیسائی خواتین اور ایک فلسطینی فیملی احمدی ہوگئی۔برمودا اور بولیو یا کینیڈا کے سپرد تھے۔بولیویا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بیعت ملی اور یہاں با قاعدہ تبلیغ کی کوشش کی جائے گی۔نئی جماعتوں کا قیام جہاں نئی جماعتوں کا قیام ہوا ہے، اُن کی تعداد ۹۴۵ ہے۔ان ۹۴۵ جماعتوں کے علاوہ ۵۸۹ نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔اس طرح مجموعی طور پر ۱۵۳۴ نئے علاقوں میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ان میں ہندوستان سر فہرست ہے، جہاں ۸۶ انٹی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔نو مبا نکین سے رابطہ مہم بعض نومبائعین سے بیعتیں کرانے کے بعد رابطہ انتظامی کمزوری کی وجہ سے منقطع ہو گیا تھا۔ان کو میں نے کہا تھا، بحال کروائیں۔اُن میں جائیں ، دیکھیں، کس حد تک وہ لوگ ابھی تک اپنے آپ کو احمدیت سے منسلک کئے ہوئے ہیں۔اس رابطہ کی مہم میں گھانا سر فہرست ہے۔انہوں نے ۳۱۳ دیہات کے ۲ لاکھ کے ہزار نو مبائعین سے رابطہ بحال کیا ہے اور تقریباً دو تہائی حصہ میں با قاعدہ نظام قائم کر کے کام شروع کر دیا گیا ہے۔پھر بور کیفیا فاسو نے ایک لاکھ ۶۸ ہزار سے رابطے بحال کئے۔نائیجریا نے ایک لاکھ ۲۴ ہزار رابطے بحال کئے۔اُن کے علاوہ کئی ممالک نے بھی اس طرف توجہ دی۔نئی مساجد دوران سال اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ۳۵۹ مساجد عطاء فرمائیں۔جن میں سے اے انٹی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور ۸۸ اپنی بنائی ملی ہیں۔مختلف ممالک میں نئی مساجد کی تعمیر ہوئی ہے۔مالی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی پہلی مسجد زیر تعمیر ہے۔اس کے علاوہ بھی یہاں ۵۳ بنی بنائی مساجد جماعت کو ملی ہیں۔بینن میں اس سال ۲۱ نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور اب ۲۵۱ تعداد ہوگئی ہے۔