خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 202
۱۹۹ ۳۲ ۱۹۵۱ء میں ٹرینیڈاڈ میں مشن قائم ہوا۔۳۳ ۱۹۵۶ء میں لائبیریا میں احمد یہ مشن کا قیام ہوا۔۳۴ ۱۹۶۱ء میں آئیوری کوسٹ میں مشن کا اجراء ہوا۔(۳۵ ۱۹۶۳ء میں جزائر فجی میں با قاعدہ مشن قائم ہوا۔☆☆ سیاسی لحاظ سے بھی مسلمانوں کے مصالح اور حقوق کے حصول کے لئے تاریخ عالم پر حضرت مصلح موعودؓ کے کارنامے سنہری حروف سے ثبت ہیں۔ان کارناموں میں سے ” مسلمانوں کے حقوق اور نہرورپورٹ، قضیہ فلسطین میں مسلمانان فلسطین کی رہنمائی میں آپ کی طویل اور مؤثر جد و جہد، قیام پاکستان کے لئے آپ کی مساعی جمیلہ، باؤنڈری کمشن میں مسلم حقوق کی حفاظت کے لئے کامیاب کوششیں کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ اور کشمیر کی آزادی کی جد و جہد وغیرہ وغیرہ نا قابلِ فراموش تاریخ ہے جو حضرت مصلح موعودؓ کے کار ہائے نمایاں پر مبنی ہے۔مذہبی اور انتظامی لحاظ سے جہاں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی شاندار اور فتحیاب قیادت فرمائی اور اسے ترقیات کی عظیم ترین منازل عطا کیں ،وہاں علمی لحاظ سے شریعت اسلامیہ کے ہر مسئلہ کا مکمل حل بڑے آسان پیرایہ میں پیش فرما کر دنیا میں اسلام کی علمی فوقیت کو ثابت فرمایا۔الصلح الموعود خلیفہ مسیح الثانی کا باون سالہ دور خلافت اسلام کی شان وشوکت ،اس کی تمکنت و استحکام، اخلاقی ، روحانی اور علمی تفوق کا کامیاب و کامران دور تھا۔اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقاصد کی تکمیل کے لئے عظیم اور غیر معمولی نمایاں کام سرانجام پائے۔الحمد لله ثم الحمد لله ۷، ۸ رنومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نظیر ، ملت کا فدائی، خدا کا یہ محبوب بندہ ، قوموں کو برکت عطا کرتا ہوا، زمین کے کناروں تک شہرت پا کر اپنے رب کریم کے حضور حاضر ہو گیا۔وَ كَانَ أَمْرًا مَقْضِيّاً