خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 15

خلافت حقہ اسلامیہ 15 ہے کہ اس کی غلطی سمجھی جائے گی۔انتخاب بہر حال تسلیم کیا جائے گا۔اور ہماری جماعت اس انتخاب کے پیچھے چلے گی مگر جماعت کو میں یہ حکم نہیں دیتا بلکہ اسلام کا بتایا ہوا طریقہ بیان کر دیتا ہوں تا کہ وہ گمراہی سے بچ جائیں۔ہاں ! جہاں میں نے خلیفہ کی تجویز بتائی ہے وہاں یہ بھی شریعت کا حکم ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی پروپیگنڈہ کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔یا جن لوگوں کے متعلق پرو پیگنڈہ کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔یا جس کو خود تمنا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کو وہ مقام نہ دیا جائے تو حضرت خلیفہ اول کی موجودہ اولاد بلکہ بعض پوتوں تک نے چونکہ پروپیگنڈہ میں حصہ لیا ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں یا اُن کے پوتوں کا نام ایسے انتخاب میں ہرگز نہیں آسکے گا۔ایک تو اسلئے کہ انہوں نے پروپیگنڈہ کیا ہے اور دوسرے اس لئے کہ اس بنا پر ان کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواب بھی بتاتی ہے کہ اس خاندان میں صرف ایک ہی پھانک خلافت کی جانی ہے۔اور ”پیغام صلح نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس سے مراد خلافت کی پھانک ہے۔پس میں نفی کرتا ہوں حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی۔اور ان کے پوتوں تک کی یا ایسے تمام لوگوں جن کی تائید میں پیغامی یا احراری ہوں یا جن کو جماعت مبائعین سے خارج کیا گیا ہو اور اثبات کرتا ہوں مِنكُمْ کے تحت آنے والوں کا یعنی جو خلافت کے قائل ہوں۔چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جسمانی ذریت ہوں یا رُوحانی ذریت ہوں۔تمام علماء سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود کی رُوحانی ذریت ہیں۔اور جسمانی ذریت تو ظاہر ہی ہوتی ہے ان کا نام خاص طور پر لینے کی ضرورت نہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے بیٹوں کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔اب روحانی ذریت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دس لاکھ ہے اور جسمانی ذریت میں سے اس وقت صرف تین فرد زندہ ہیں۔ایک داماد کو شامل کیا جائے تو چار بن جاتے ہیں۔اتنی بڑی جماعت کے لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان میں سے کوئی خلیفہ ہو۔