خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 54
الٹے میں سر گر یہ شمس تھے حضرت ابو بکر صدیق خان کی سرکوبی کے لئے بنفس نفیس لشکر لے کر جانا چاہتے تھے مگر سید نا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آپ کی سواری کی باگیں پکڑ لیں اور عرض کیا :۔" اَيْنَ تَذْهَبُ مِنَ الْمَرْكَزِ وَ اَنْتَ نِظَامُ الْإِسْلَامِ وَ اِلَيْكَ مَدَارُ الإِسْلامِ لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ دَارِ الْخِلَافَةِ ولكن اَرْسِلَ مَعَ الْعَسْكَرِ نَائِبًا مِنْكَ ، مشجر الاولیاء صد ناشر شمس الدین تاجر کتب مسلم مسجد چوک انارکلی لاہور ) آپ مرکز چھوڑ کر کہاں تشریف لے جا رہے ہیں۔آپ ہی تو نظام اسلام اور مدار اسلام ہیں آپ دار الخلافہ سے ہرگز نہ جائیں بلکہ آپ کسی نائب کوشش کر کے ساتھ بھیج دیں۔یہ شجر الاولیاء کی روایت ہے کنز العمال (جلد ۱۳۵۳ - ۱۲ ) میں حضرت علی رض کے یہ الفاظ منقول ہیں :- " إلى أيْنَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ الله۔۔۔۔لا تُفجعنا بِنَفْسِكَ وَارْجِعْ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَ اللَّهِ لَئِنْ فُجِعْنَا لَا يَكُونُ لِلْإِسْلَامِ نِظام اَبَدًا خلیفہ رسول آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ ہمیں اپنے وجود سے کسی مصیبت میں مبتلا نہ کریں اور مدینہ کی طرف لوٹ آئیں۔خدا کی قسم اگر کوئی حادثہ رونما ہو گیا تو نظام اسلام کبھی ء