خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 60
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم بحث کرتے ہوئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے ساٹھ ستر کے نام سعد ہیں۔انہی میں سے ایک سعد بن ابی وقاص بھی ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔حضرت عمرؓ کی طرف سے کمانڈر انچیف مقرر تھے اور تمام مشوروں میں شامل ہوا کرتے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے کئی علم سے سعد کا لفظ سن کر یہ نہ سمجھا کہ یہ سعد اور ہے اور وہ سعد اور۔جھٹ میرے خطبہ پر تبصرہ کر دیا۔یہ میں نے سعد بن ابی وقاص کا ذکر نہ کیا تھا جو مہاجر تھے بلکہ میں نے جس کا ذکر کیا وہ انصاری تھے۔ان دو کے علاوہ اور بھی بہت سے سعد ہیں بلکہ ساٹھ ستر کے قریب سعد ہیں جس سعد کے متعلق میں نے ذکر کیا ان کا نام سعد بن عبادہ تھا۔عرب کے لوگوں میں نام دراصل بہت کم ہوتے تھے اور عام طور پر ایک ایک گاؤں میں ایک نام کے کئی کئی آدمی ہوا کرتے تھے جب کسی کا ذکر کرنا ہوتا تو اس کے باپ کے نام سے اس کا ذکر کرتے مثلاً صرف سعد یا سعید نہ کہتے بلکہ سعد بن عبادہ یا سعد بن ابی وقاص کہتے۔پھر جہاں باپ کے نام سے شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے مقام کا ذکر کرتے اور جہاں مقام کے ذکر سے بھی شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے قبیلہ کا ذکر کرتے۔چنانچہ ایک سعد کے متعلق تاریخوں میں بڑی بحث آئی ہے چونکہ نام ان کا دوسروں سے ملتا جلتا تھا اس لئے مؤرخین ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مثلاً ہماری مراد اوسی سعد سے ہے یا مثلاً خزرجی سعد سے ہے۔ان صاحب نے معلوم ہوتا ہے ناموں کے اختلاف کو نہیں سمجھا اور یونہی اعتراض کر دیا مگر ایسی باتیں انسانی علم کو بڑھانے والی نہیں ہوتیں بلکہ جہالت کا پردہ فاش کرنے والی ہوتی ہیں۔خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیں بنا سکتی۔اسی مسجد میں میں نے حضرت خلیفہ اول سے سنا آپ فرماتے تم کو معلوم ہے پہلے خلیفہ کا دشمن کون تھا ؟ پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن پڑھو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا دشمن ابلیس تھا اس کے بعد آپ نے فرمایا میں بھی خلیفہ ہوں اور جو میرا دشمن ہے وہ بھی ابلیس ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خلیفہ مامور نہیں ہوتا گو یہ ضروری بھی نہیں کہ وہ ما مور نہ ہو۔حضرت آدم ما مور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔حضرت داؤد ما مور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے اسی