خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page vi
اس حدیث نبوی میں امت محمدیہ میں خلافت علی منہاج نبوت کے دو ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔پہلا دور خلافت علی منہاج نبوت کا وہ دور ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے شروع ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ تک قائم رہا۔اس کے بعد جیسا کہ حدیث مذکورہ بالا میں بیان ہے ایذا رساں بادشاہت اور جابر حکومتوں کے ادوار آئے۔اور پھر پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آیا اور اس نے زمانہ کی اصلاح و تکمیل اشاعت ہدایت کی غرض سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع و غلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ظلی طور پر امتی نبوت کے مقام پر فائز فرماتے ہوئے مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر بھیجا۔اور آپ کی وفات (26 مئی 1908ء) کے بعد 27 مئی 1908ء سے حضرت الحاج حکیم مولانانورالدین رضی اللہ عنہ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے ساتھ خلافت علی منہاج نبوت کے دوسرے مبشر دور کا آغاز ہوا جو انشاء اللہ حسب بشارات نبوی دائمی ہے۔کیونکہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور دور کے آنے کا ذکر نہیں فرمایا۔گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے جماعت احمدیہ مسلمہ اس موعود خلافت علی منہاج نبوت کی آسمانی قیادت سے فیضیاب ہے اور اس وقت ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کے پانچویں مظہر کے مبارک دور سے گزر رہے ہیں۔