خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 556

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم انتخاب خلافت کے طریق خلافت کے انتخاب کے متعلق بھی کئی طریق ثابت ہیں۔ایک یہ کہ مرکزی جماعت کے موجودہ ممبر انتخاب کر لیں یا جماعت میں سے چند لوگ منتخب کر لئے جائیں اور پھر وہ انتخاب کریں۔یا ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کو منتخب کر دے جیسے حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو کیا۔تو یہ مختلف طریق ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء سے ثابت ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِی وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ اور قرآن کریم نے صحابہ کو نجوم قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم نے جو لوگ حقیقی طور پر صحابہ ہیں منافق نہیں وہ سب ستاروں کی طرح ہیں جس کی چاہو پیروی کر و ہدایت ہی ملے گی اور صحابہ سے یہ سارے طریق ثابت ہیں۔اس واسطے ہمارے لئے گنجائش ہے کہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے جو مناسب سمجھیں اختیار کر لیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ پبلک کی مرضی کا خیال رکھا جائے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے موجودہ طریق رکھا ہوا ہے۔ایک زمانہ میں سب کی رائے لی جاسکتی ہے اور پھر ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب سب کی رائے لی ہی نہ جا سکے۔جیسے ہم امید رکھتے ہیں کہ احمدیت ساری دنیا میں پھیل جائے گی اُس وقت اگر سب کی رائے لینے کے طریق پر عمل کیا جائے تو ممکن ہے سال دو سال تک کوئی خلیفہ ہی نہ ہو اور یا پھر بنو عباس والا طریق ہو جو بالآخر انسان کی تباہی کا باعث ہوا تھا۔تمام مسلم و غیر مسلم مورخ اس امر پر متفق ہیں کہ ان کی تباہی کا موجب یہی بات ہوئی کہ وہ ایک خلیفہ کے وقت میں ہی دوسرا مقرر کر دیتے تھے جو خلاف اسلام بھی تھا اور خلاف مصلحت بھی۔پس یہ دونوں طریق یعنی جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے جائز ہیں اور موقع کے لحاظ سے ان سے فائدہ