خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 43

خلافة على منهاج النبوة ۴۳ جلد سوم نظام سلسلہ کی پابندی کے بغیر ترقی محال ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲ جون ۱۹۳۳ء کو خطبہ ارشادفرمایا جس میں نظام سلسلہ کی پابندی کے بغیر ترقی محال ہے کا ذکر کرتے ہوئے خلیفہ وقت کی اطاعت کے بارہ میں فرمایا۔خلیفہ وقت کے ایک حکم کا انکار بھی انسان کو جماعت سے خارج کر دیتا ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ خلیفہ تین مرتبہ ایک بات کو دُہراتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، میں اس کی اجازت نہیں دیتا مگر وہی بات کر لی جاتی ہے۔پھر یہ بیوقوف کہتے ہیں ناظر امور عامہ ظالم ہے کہ اُس نے سزا دی حالانکہ اگر ان کے اندر غیرت ہوتی اور واقعہ میں ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو بجائے اس کے کہ امور عامہ یہ سزا دیتا ، انہیں خود ایسے لوگوں کو سزا دینی چاہیے تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ایک دفعہ کسی منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہو گیا۔وہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ فرمایا یا جو فرمانے لگے اُس منافق نے سمجھا کہ یہ میرے خلاف ہو گا تب اس نے یہودی سے کہا بہتر ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں اور وہاں سے فیصلہ کرائیں۔وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر پہنچے اور کہا ہمارا فیصلہ کر دیجئے۔گفتگو کے دوران میں یہودی نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوا۔آپ نے کہا اچھا یہ بات ہے۔میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر گھر میں گئے تلوار لی اور باہر آ کر اُس منافق کی گردن اڑادی اور کہا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور نہیں اُس کا فیصلہ یہ ہےلے تو بجائے اسکے کہ امور عامہ سزا تجویز کرتا ، اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایمان ہوتا تو چاہئے تھا کہ خود سزا دیتے۔یہ نہیں کہ ان لوگوں کو اس سے انکار ہو کہ میں نے انہیں منع نہیں کیا۔انہوں نے خود اپنے بیان میں اس امر کو تسلیم کیا ہے