خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 506
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم اس پر گفتگو ہی نہیں کی جاسکتی۔اسی وجہ سے ہم نے اپنے ہاتھوں کو جو کام کر رہے تھے کاٹ کر پھینک دیا کہ چونکہ تم خلافت کو انجمن کے ماتحت رکھنا چاہتے ہو اس لئے تم کو ہم نہیں رکھ سکتے۔پس یہ بنیادی پتھر ہے کہ ایک خلیفہ ہو اس پر نہ اختلاف ہم سن سکتے ہیں نہ اختلاف ہے۔ہم سب اس پر متفق ہیں کہ ایک واجب الاطاعت امام ہونا چاہئے۔پیغام صلح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیر احمدیوں کو اس لئے پراگندہ طبع قرار دیا ہے کہ اُن کا کوئی امام نہیں۔پس اگر یہ سوال ہے کہ خلافت کے ماننے والے اپنے اختیارات کو خلیفہ کے مقابلہ میں کس طرح بر تیں تو یہ ان مسائل سے ہے کہ جن پر اختلاف کر کے ہم اکٹھے مل کر کام نہیں کر سکتے۔اس موقع پر هذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ کہنا چاہئے۔جیسے دومسلمان اس پر بحث نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے یا نہیں اور اُسی وقت بحث کریں گے جب مسلمان نہ رہیں اسی طرح دو احمدی اِس پر بحث نہیں کر سکتے کہ مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں یا نہیں۔اسی طرح خلیفہ اور انجمن کے اختیارات کے بارہ میں بھی ایک جماعت میں بحث نہیں ہو سکتی۔اس سے ٹوٹ کر ہوگی جیسا کہ پہلے ہوا ہے کیونکہ یہ ان مسائل سے نہیں کہ اکٹھے رہ کر بحث ہو سکے۔انجمن سیالکوٹ، فیروز پور یالا ہور کیا چیزیں ہیں۔وہ ظل ہیں قادیان کی انجمن کا۔وہ امیر جو فیروز پور ، لا ہور میں ہو وہ ظل ہے خلیفہ کا۔پھر ظل پر وہ حکم کس طرح جاری ہو جو اصل پر نہیں۔اگر صدرانجمن خلیفہ کے حکم دینے سے نہیں ٹوٹتی تو اس کی شاخیں خلیفہ کے قائم مقاموں کے حکم دینے سے کس طرح ٹوٹ جاتی ہیں اور اگر صدرانجمن کا ٹوٹنا ما نہیں تو ماننا پڑے گا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مجرم ہیں خدا تعالیٰ کے۔اگر یہ نہیں تو ماننا پڑے گا کہ نہ انجمن ٹوٹی اور نہ مسیح موعود کے احکام کی خلاف ورزی کی۔یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔تعجب ہے اصل انجمن کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ نہیں ٹوٹی مگر ظل جو ہیں ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ٹوٹ جائے گی۔اس کا کیا یہ مطلب نہیں کہ قادیان والی انجمن خلیفہ کے تقرر سے ٹوٹ جائے تو ٹوٹ جائے مگر ہم امراء کے تقرر سے اپنی انجمنیں نہ ٹوٹنے دیں گے۔اس میں امیر کا تقرر نہ ہوگا۔مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی