خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 396

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۶ جلد سوم عمل صالح کرنے والے مومنوں سے خلافت کا وعدہ سورۃ مریم کی آیت نمبر ۳ ذكُرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا تفسیر کرتے ہوئے پہلے مجددین کا ذکر کر کے سورہ نور کی آیت استخلاف کا ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں:۔یہ امر یا دکھنا چاہئے کہ اس جگہ ذکریا سے وہ زکریا مراد نہیں جن کی کتاب بائبل میں شامل ہے وہ زکریا ۷ ۴۸ سال قبل مسیح گزرے ہیں اور یہ ذکر یا وہ ہیں جو حضرت مسیح کے قریب زمانہ میں آپ کی والدہ کے کفیل تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زکریا بھی نبی تھے۔لیکن انا جیل میں ان کا ذکر بطور کا ہن کیا گیا ہے بطور نبی کے نہیں۔مگر اس مشکل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بالکل حل کر دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّ دُ لَهَا دِيْنَهَا یعنی اللہ تعالیٰ اِس اُمت میں ہر صدی کے سر پر احیائے دین کیلئے ایک مجدد مبعوث فرمایا کرے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے وَعَدَ الله الّذینَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ " یعنی الله تعالیٰ نے مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں بھی زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کے خلفاء یعنی مجددین کو پہلے زمانہ کے اسرائیلی خلفاء کا مثیل قرار دیا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِی كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل ے یعنی میری اُمت کے علمائے روحانی یعنی مسجد دین انبیائے بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحه ۱۱۷)