خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 388

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۸ جلد سوم نبی کے چارا ہم کام سورة البقره آیت ۱۳۰ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ میں بیان نبی کے چارا ہم کاموں کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔یہی چار مقاصد خلافت اسلامی کے فرائض سے بھی تعلق رکھتے ہیں یعنی دلائل سکھانا، خدا کی باتیں لوگوں کو بتانا ، شریعت سکھانا ، ایمان تازہ کرنے کیلئے قرآن کریم کے احکام اور ان کی حکمتیں بتانا ، جسمانی و قلبی طہارت پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔اور یہی مبلغوں ، کارکنوں ، پریذیڈنٹوں، امیروں اور سیکرٹریوں کا کام ہے۔جب تک ان چاروں باتوں کو مد نظر نہ رکھا جائے اُس وقت تک سلسلہ کی غرض و غایت پوری نہیں ہو سکتی۔ابتدائے خلافت میں میں نے ” منصب خلافت میں ان باتوں کو تفصیل سے بیان کر دیا تھا تا کہ لوگ اس طرف توجہ کریں اور انہیں بار بار مجھ سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے کہ ہمیں بھی کوئی کام بتایا جائے مگر بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں۔پس جو دوست سلسلہ کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں اُنہیں چاہئے کہ وہ اس کتاب کو پڑھ لیں اور خود ہی دیکھ لیں کہ ان کے کیا فرئض ہیں۔ان کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ وہ ان چاروں کا موں کو پورا کریں یہی وہ کام ہیں جن کے لئے اسلام نبوت، خلافت اور امامت قائم کرتا ہے۔پس نبی کا بھی اور پھر اس کے بعد خلفاء اور ان کے بعد تابعین کا بھی یہی کام ہوتا ہے اور جو شخص ان کا موں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے انصار میں شامل کر لیتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۱۹۵، ۱۹۶) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نظام قائم رکھنے کے لئے اسلام نے خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے لیکن غلطی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف خلافت ہی کا ذمہ ہے کہ وہ تمام کام کرے