خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 369
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۹ جلد سوم خلیفہ وقت کا توکل علی اللہ حضرت خلیفہ امسیح لثانی نے ۳۱ اکتو بر ۱۹۵۸ء کو خطبہ جمعہ میں ایک ڈپٹی پولیس سپر نٹنڈنٹ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔’آپ نے دیکھا ہے کہ دفتر میں پندرہ ہمیں آدمی بیٹھے ہیں لیکن آپ دلیری سے میرے پاس آگئے ہیں آپ ان احمدیوں سے کیوں نہیں ڈرے؟ آپ ان سے اس لئے نہیں ڈرے کہ آپ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے مجھے کچھ کہا تو میری حکومت ان کی گردنیں پکڑ لے گی۔تو اگر آپ کو اپنی سرکار پر اتنا بھروسہ ہے تو آپ یہ بتائیے کہ میرا یہ دعوی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ یعنی اُس کا عہد یدار ہوں اب اگر آپ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہو کے اپنی سرکار پر اتنا اعتبار رکھتے ہیں تو کیا میں خدا کا خلیفہ ہوکر اپنے خدا پر اعتبار نہیں کروں گا ؟ یا درکھیں میری گردن آپ کے گورنر کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ میری گردن مروڑنے کی کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ اُس کی گردن مروڑ دے گا۔چنانچہ چند دن کے اندر اندر اُسے واپس بلا لیا گیا اور گورنری سے ہٹا دیا گیا۔“ غیر مطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ )