خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 361

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۱ جلد سوم دعا کی فلاسفی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۸ ستمبر ۱۹۵۱ء کو خطبہ جمعہ میں دعا کی فلاسفی بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے مدد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اور دیگر مذاہب میں فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا : - ” ہمارے اور دوسرے مذاہب کے درمیان یہی لڑائی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ زندہ ہے اور وہ انسان کے کاموں میں اسی طرح دخل دیتا ہے جیسے وہ پہلے دیا کرتا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کی سب تدابیر ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رُخ کرتا ہے تو اسے باوجود ظاہری سامان نہ ہونے کے کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔نپولین نے کتنی تیاریاں کی تھیں ، قیصر نے کتنی تیاریاں کی تھیں ، مسولینی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے۔انور پاشا اور اس کی پارٹی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے اور ایک دھتکارا ہوا شخص مصطفیٰ کمال پاشا آگے آ گیا۔بیشک وہ بھی دیندار نہیں تھا لیکن انور پاشا پر یہ الزام تھا کہ اس نے ایسے بادشاہ کو جس کے زمانہ میں اسلام نے ترقی کی تھی معزول کیا مصطفیٰ کمال پاشا کا یہ قصور نہیں تھا اس نے بیشک خلافت کو توڑا تھا لیکن اس نے اس خلافت کو تو ڑا جس نے پہلے سے قائم شدہ خلافت کو برخواست کیا تھا اور اس کا مقابلہ کیا تھا اس لئے وہ باغی سے مقابلہ کرنے والا کہلاتا ہے۔دراصل اس آخری زمانہ میں جو خلافت تھی یہ اصل خلافت نہیں تھی۔اصل خلافت خلفائے راشدین والی خلافت ہی تھی۔سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت علی پر ختم ہو گئی ہے۔بے شک بعد میں آنے والے بادشاہوں کو بھی خلفاء کہا گیا لیکن وہ خلفائے راشدین نہیں تھے۔وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر بادشاہ کو خلیفہ نہ کہا تو پکڑے جائیں گے اس لئے انہوں نے پہلی خلافت کو