خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 22

خلافة على منهاج النبوة ۲۲ جلد سوم سفر یورپ کے متعلق انتظام (فرمودہ ۱۱ جولائی ۱۹۲۴ء) ۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود یورپ تشریف لے گئے ۱۱ جولا ئی ۱۹۲۴ء کو قادیان میں سفر یورپ کے متعلق خطبہ ارشادفرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی ہوں تو ان میں ایک امیر ہونا چاہیے لے مجھے ہندوستان میں جب کبھی سفر کا موقع پیش آیا ہے اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی تھی کہ قادیان کی جماعت کے لئے امیر مقرر کیا جائے۔لیکن یہ سفر چونکہ ہندوستان سے باہر کا ہے اس لئے اس وقت یہی ضرورت نہیں کہ قادیان کے لئے کوئی امیر مقرر کیا جائے بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ایسا نائب مقرر کیا جائے جو سارے ہندوستان کی جماعتوں کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو اور میں نے اس غرض کے لئے مولوی شیر علی صاحب کو تجویز کیا ہے۔وہ ایسے معاملات کے متعلق جو فوری اور ضروری ہوں اور جن کے متعلق مجھ سے مشورہ بذریعہ خط یا بذریعہ تار نہ لیا جا سکتا ہو فیصلہ کریں گے اور چونکہ یہ کام نہایت اہم ہے اور چونکہ خلیفہ اور نائب میں فرق ہے۔کیونکہ خلیفوں کے لئے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے اور ایسے امور کی طرف ان کی راہنمائی کی جاتی ہے جن میں جماعت کی بہتری ہوتی ہے اور فرماتا ہے ان کا انتخاب خود خدا کرتا ہے گو بندوں کے ذریعہ ہی انتخاب ہوتا ہے مگر ان کی زبانوں پر خدا بول رہا ہوتا ہے۔لیکن نائیوں کے لئے یہ نہیں“۔( خطبات محمود جلد ۸ صفحه ۴۶۱ ) خلیفہ کا کام مرض کی تشخیص کرنا اور علاج تجویز کرنا ہے۔اس کے بعد دوسرے لوگ