خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 137

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۷ جلد سوم زبیر تجھ سے ایسی حالت میں لڑائی کرے گا جبکہ یہ ظالم ہوگا اور تو مظلوم ہوگا۔یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس کو ٹے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کر لیا کہ انہوں نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی لیکن لطیفہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زبیر کو حضرت علیؓ کے مقابلہ میں ظالم قرار دیتے ہیں اور مصری صاحب کہتے ہیں اگر میں نے بیعت توڑ دی ہے تو کیا حرج ہوا زبیر نے بھی تو بیعت توڑی تھی اور حضرت علی کا مقابلہ کیا تھا۔گویا وہ اپنے منہ سے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ظالم ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو حضرت زبیر سے نسبت دیتے ہیں اور حضرت زبیر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالم قرار دیا تھا۔اب کیا ظالم ہونا ان کے خیال میں کوئی گناہ نہیں صرف غیر احمدی ہونا ہی گناہ ہے۔یہ مانا کہ حضرت زبیر نے حضرت علی کی بیعت عملاً تو ڑ دی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی تو حدیث ہے کہ اے زبیر! تو علی سے ایسی حالت میں مقابلہ کرے گا جبکہ تو ظالم ہو گا۔پس جب وہ حضرت زبیر سے اپنی نسبت دیتے ہیں تو کیا وہ اس حدیث کے ماتحت ظالم قرار نہیں پاتے ؟ اور کیا ظالم ہونا ان کے نزدیک کم گناہ ہے کہ وہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔پس حضرت زبیر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سن کر جنگ سے الگ ہو گئے اور اچانک حملہ کے وقت چونکہ وہ زخمی ہو گئے تھے بعد میں فوت ہو گئے۔باقی رہے حضرت طلحہ ان کی نسبت روایات میں آتا ہے کہ حضرت طلحہ بھی میدانِ جنگ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ان کے پیچھے ایک شخص گیا اور ان پر غفلت میں حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔اس کے بعد ان کے پاس سے ایک شخص گزرا اور آپ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔اب کجا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی حالت اور کجا مصری صاحب کی حالت۔کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ اور کیا ان کا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی مثال پیش کرنا کسی لحاظ سے بھی درست ہو سکتا ہے؟ مصری صاحب دریافت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے جب بیعت کو فسخ کر لیا تھا تو کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام۔خارج قرار دے۔اور میں انہیں کہتا ہوں کہ ہم اگر انہیں اسلام سے خارج قرار نہیں دیتے