خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 71
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم کوئی الزام نہیں لگ سکتا۔پس اِن کو کہو کہ اب جاؤ اور سارے عرب میں چار ماہ پھر کر دیکھ لو کہ کہیں بھی تمہاری حکومت رہ گئی ہے؟ یقینا تمہیں معلوم ہو گا کہ تم اللہ تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکے۔اور خدا ہی ہے جس نے تمہیں رُسوا کیا۔اسی طرح حج اکبر کے دن لوگوں میں اعلان کر دو کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں کے تمام اعتراضات سے بری ہو چکا ہے اور تمہارے جس قدراعتراضات تھے وہ دُور ہو گئے۔اگر وہ تو بہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہو گا اور اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو جان لو کہ اب بقیہ عرب میں ان کی تھوڑی بہت اگر کچھ حکومت باقی ہے تو وہ بھی تباہ ہو جائے گی۔سوائے ان کے جو اُن مشرکوں میں سے تمہارے ساتھ معاہدہ کر لیں۔مگر اس شرط کے ساتھ کہ انہوں نے معاہدہ کو کسی صورت میں نہ تو ڑا ہوا اور نہ انہوں نے تمہارے خلاف دشمنوں کی کسی قسم کی مدد کی ہو۔ایسے لوگوں کے ساتھ تم معاہدہ کو نبھاؤ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔لیکن ان کے علاوہ اور جس قدر مشرک ہیں ان میں ایک اعلان کر دو اور وہ یہ کہ آج سے چار ماہ کے بعد وہ عرب میں سے نکل جائیں اگر وہ نہ نکلیں اور عرب میں ہی ٹھہرے رہیں تو چونکہ انہوں نے گورنمنٹ کا آرڈر نہیں مانا ہوگا اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اس کے بعد تم مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کر دو اور جہاں پاؤ ان کو پکڑ لو اور پکڑ کر قید میں ڈال دو اور ان کی گھات میں تم ہر جگہ بیٹھو۔ہاں اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور نمازیں پڑھیں اور ز کو تیں دیں تو بے شک انہیں چھوڑ دو کیونکہ خدا غفور اور رحیم ہے۔آب دیکھو حکومت کس چیز کا نام ہوتا ہے۔حکومت اس بات کا نام نہیں کہ میاں ، بیوی سے اپنی باتیں منوائے اور بیوی ، میاں سے۔بلکہ حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے یہ نہیں کہ جو بھی کسی کو حکم دے اسے بادشاہ کہہ دیا جائے۔انگریزی میں لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ابا جان! بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟ باپ کہنے لگا بادشاہ وہ ہوتا ہے جس کی بات کو کوئی رڈ نہ کر سکے۔بچہ یہ سن کر کہنے لگا کہ ابا جان پھر تو ہماری اماں جان بادشاہ ہیں۔معلوم ہوتا ہے وہ باپ زن مرید ہو گا۔تبھی اس کے بچہ نے کہا کہ اگر بادشاہ کی یہی تعریف ہے تو یہ تعریف تو میری والدہ پر صادق آتی ہے۔