خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 306
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۶ جلد دوم کے سر پر ایڑی رکھنی ہو گی اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھی اسے پنپنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اگر تم ایسا کرو گے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور خدا تعالیٰ سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں۔دیکھو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت کوکس قدر مدد دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اس میں چھ سات سو آدمی آئے تھے اور حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے عہد خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر گیارہ بارہ سو احمدی آئے تھے لیکن اب ہمارے معمولی جلسوں پر بھی دواڑھائی ہزار احمدی آ جاتے ہیں اور جلسہ سالانہ پر تو ساٹھ ستر ہزار لوگ آتے ہیں اس سے تم اندازہ کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی طاقت دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لنگر خانہ پر پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ آ جاتا تو آپ کو فکر پڑ جاتی اور فرماتے لنگر خانہ کا خرچ اس قدر بڑھ گیا ہے، اب اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا۔گویا جس شخص نے جماعت کی بنیا د رکھی تھی وہ کسی زمانہ میں پندرہ سو ماہوار کے اخراجات پر گھبرا تا تھا لیکن اب تمہارا صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ بارہ تیرہ لاکھ کا ہوتا ہے اور صرف ضیافت پر پینتیس چھتیں ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ کے معنی یہ ہیں کہ سال میں صرف اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہوتا تھا لیکن اب صرف جامعۃ المبشرین اور طلباء کے وظائف وغیرہ کے سالانہ اخراجات چھیاسٹھ ہزار روپے ہوتے ہیں گویا ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔وہ مامور من اللہ تھے اور اس لئے آئے تھے کہ دنیا کو ہدایت کی طرف لائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے کونہ کو نہ میں قائم کریں اور مسلمانوں کی غفلتوں اور سستیوں کو دور کر کے انہیں اسلامی رنگ میں رنگین کریں لیکن ان کی زندگی میں جماعتی اخراجات پندرہ سو روپیہ پر پہنچتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں اور خیال فرماتے ہیں کہ یہ اخراجات کہاں سے مہیا ہوں گے لیکن اس وقت ہم جو آپ کی جوتیاں جھاڑنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں صرف ایک درس گاہ یعنی جامعتہ المبشرین پر ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار خرچ