خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 244
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۴ جلد دوم آدم کے ساتھی یہ خیال کرتے ہوں گے کہ آدم بھی ایک دن اس دنیا سے گزر جائے گا وہ وقت اُن کے لئے کیسا تکلیف دہ ہوتا ہو گا۔اُن کے لئے کوئی مثال موجود نہ تھی کہ آدم کا قائم مقام کوئی اور آدمی بھی ہوسکتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے سارے فضلوں کو آدم میں ہی مرکوز دیکھتے تھے اور آدم سے بڑھ کر کسی اور وجود میں اِن فضلوں کا مشاہدہ کرنا اُن کے نزدیک خام خیالی تھی کیونکہ اور کوئی انسان انہوں نے نہیں دیکھا تھا جو آدم سے بڑھ کر ہوتا۔غرض آدم جس کی تعلیم کا نشان سوائے قرآن کے اور کہیں نہیں ملتا ، آدم جس کی تربیت کا نشان دنیا کی کسی تاریخ سے مہیا نہیں ہوتا وہ اُن لوگوں کیلئے اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایسا ہی ضروری تھا جیسے حیات کے قیام کے لئے ہوا اور پانی ضروری ہوتا ہے۔وہ آدم کو اپنی روحانی حیات کے قیام کا ذریعہ سمجھتے تھے اور روحانی حیات کو آدم کا نتیجہ قرار دیتے تھے مگر ایک دن آیا جب خدا کی قدرت نے آدم کو اُٹھا لیا۔آدم کے مومنوں پر وہ کیسا تکلیف کا دن ہو گا وہ کس طرح تاریکی اور خلا اپنے اندر محسوس کرتے ہوں گے مگر وہ نسل گزری اور اُس نسل کی نسل گزری اور اسی طرح کئی نسلیں گزرتی چلی گئیں اور آدم کی قیمت اُن کے دلوں سے کم ہوگئی یہاں تک کہ وہ اُس وجود کو بھی بھول گئے جس کی وجہ سے آدم کی قدر و قیمت تھی یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کو بھی بھلا دیا ، اُس سے قطع تعلق کر لیا اور اُن کی ساری کوششیں دنیا میں ہی محدود ہو گئیں۔تب خدا نے نوح کو دنیا میں بھیجا۔یا کم سے کم ہمارے لئے جس شخص کے ذکر کی ضرورت سمجھی گئی ہے وہ نوح ہی ہے۔درمیان میں بعض اور وجود بھی آئے ہوں گے مگر وہ اہم وجود جس کا قرآن نے ذکر کیا نوح ہی ہے۔نوٹح کے زمانہ میں جو لوگ اُس پر ایمان لائے کس طرح اُنہیں محسوس ہوتا ہوگا کہ وہ تاریکی سے نکل کر نور کی طرف آ گئے ہیں۔وہ تنہائی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک نبی کی صحبت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اور اُس کی پُر معرفت باتیں سن کر ان کے اندر کیسی زندگی پیدا ہوتی ہوگی ، کیسا یقین پیدا ہوتا ہو گا، کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ کس طرح انہوں نے یہ غلط خیال کر لیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اُس کا نور آب دنیا میں نہیں آئے گا۔وہ سوچتے ہوں گے کہ ہم کس طرح دنیا میں مشغول