خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 227
۲۲۷ جلد دوم خلافة على منهاج النبوة جاتے ہیں مگر وہ کرایہ لیتے ہیں۔یہ صرف قادیان ہی کے مکانات ہیں جن کی نسبت ممَّا رَزَقْنهُمُ يُنفقون سے کے مطابق خرچ کرنے کا آپ لوگوں کو موقع ملتا ہے۔پھر آپ لوگ ہی ایک ایسی جماعت ہیں جسے وہ شرف حاصل ہے جس کا حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یوں ذکر کیا تھا کہ خدا کی قسم ! خدا تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ مہمان نواز ہیں کے پس یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔قیامت کے دن پانچ شخص ایسے ہوں گے جن پر خدا تعالیٰ اپنا سایہ کرے گا۔ان میں سے آپ نے ایک مہمان نواز قرار دیا ہے۔بے شک ایک دوست دوست کی میزبانی کرتا ہے مگر وہ ایک رنگ کا سودا ہوتا ہے۔ایک رشتہ دار اپنے رشتہ دار کی میزبانی کرتا ہے اور وہ بھی ایک سو دا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے ا تعلق کی وجہ سے مہمان نوازی کرتا ہے۔مگر آپ لوگ جن لوگوں کی میزبانی کرتے ہیں ان سے کوئی دُنیوی تعلق نہیں ہوتا اور یہی دراصل مہمانی ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمت کے سایہ کے نیچے آپ لوگوں کو لے جانے والی ہے اور یہی وہ مہمانی ہے جو شاذ و نادر ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ نے قادیان والوں کو عطا کر رکھی ہے۔یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر اخلاص سے آپ لوگ کام لیتے ہوں تو نہ معلوم کتنے اُحد پہاڑوں کے برابر آپ کو ثواب حاصل ہوتا ہوگا۔ممکن ہے کہ جب ہماری جماعت بڑھ جائے اور یہاں قادیان میں ایسے جلسے کرنا مشکل ہو جائیں تو پھر ہم اجازت دے دیں کہ ہر ملک میں الگ سالانہ جلسے ہوا کریں اُس وقت ان ممالک میں کام کرنے والے بھی ثواب کے مستحق ہوا کریں گے مگر وہ وقت تو آئے گا جب آئے گا اس وقت تو آپ لوگوں کے سوا ایسی خوش قسمت جماعت اور کوئی نہیں۔اب میں دعا کرتا ہوں آپ لوگ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس حقیر خدمت کو قبول فرمائے اور ہماری غلطیوں ، سُستیوں اور کمزوریوں سے درگزر کرے تا ایسا نہ ہو کہ غلطیاں ہماری نیکیوں کو کھا جانے والی ہوں۔اور ہم آئندہ سال اس سے بھی بڑھ کر