خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 225
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۵ جلد دوم کارکنان جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء سے خطاب (فرموده ۶ /جنوری ۱۹۴۰ء) له تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے باوجود ہر قسم کے موانع اور ہر قسم کی کمیوں کے گزشتہ سالوں سے زیادہ اس بات کی توفیق بخشی کہ اس کے قائم کردہ سلسلہ اور دین کیلئے جمع ہونے والے مہمانوں کی خدمت کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حوصلہ ، اپنے اخلاص اور اپنی طاقت و ہمت کے مطابق موقع ملا۔ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے اندر بھی ایسا اجتماع کہیں نہیں ہوتا جس میں اتنی مقدار میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہو۔انگلستان، امریکہ، جرمنی ، فرانس اور روس یہ اس وقت ترقی یافتہ اور بڑے بڑے مما لک خیال کئے جاتے ہیں مگر ان میں تمیں چالیس ہزار آدمیوں کے اجتماع ایسے نہیں ہوتے جن کو کھانا کھلایا جاتا ہو۔ہندوستان میں کانگرس کے اجتماع بے شک بڑے ہوتے ہیں۔گزشتہ سال میں نے نمائندے تحریک جدید سے وہاں بھجوائے تو انہوں نے بتایا کہ ان کو کھانا مفت ملنا تو الگ مول لینے میں بھی دقتیں پیش آئیں۔غرض یہ ہمارے جلسہ کی خاص خصوصیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جن کو دوسرے اجتماع دیکھنے کا موقع ملا ہے جب وہ یہاں آتے ہیں تو ہمارے انتظام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔اسی سال یو۔پی کے ایک اخبار کے نمائندے جو بعض انگریزی اخبارات کے بھی نمائندے رہ چکے ہیں اور کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں یہاں آئے تو انہوں نے ملاقات کے وقت کہا کہ کانگرس کے اجلاس سے اُتر کر ہندوستان میں اتنا بڑا اجتماع میں نے کہیں نہیں دیکھا۔میں نے کہا سنا ہے کانگرس کے اجلاس