خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 210
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم ہوتا کیا ہے؟ وہی بچہ جب خدا کی طرف سے خلافت کے تخت پر بیٹھتا ہے تو جس طرح شیر بکریوں پر حملہ کرتا ہے اُسی طرح خدا کا یہ شیر دنیا پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے، ایک مشرق سے اور ایک مغرب سے، ایک شمال سے اور ایک جنوب سے بھیڑیں اور بکریاں پکڑ پکڑ کر خدا کے مسیح کی قربان گاہ پر چڑھا دیں یہاں تک کہ آج اس سٹیج پر اس وقت سے زیادہ لوگ موجود ہیں جتنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال جلسہ سالانہ پر آئے تھے۔جس کی آنکھیں دیکھتی ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان سنتے ہوں وہ سنے کہ کیا خدا کے فضل نے ان تمام اعتراضات کو باطل نہیں کر دیا جو مجھ پر کئے جاتے تھے۔اور کیا اُس نے اُسی چھپیس سالہ نوجوان کو جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا خلیفہ بنا کر اور اُس کے ذریعہ سے جماعت کو حیرت انگیز ترقی دے کر یہ ظاہر نہیں کر دیا کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا خلیفہ نہیں بلکہ میرا بنایا ہوا خلیفہ ہے اور کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔(۳) تیسری علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارتضى لهم یعنی جو علوم دینیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن پر ظاہر ہو نگے انہیں خدا دنیا میں قائم کرے گا اور کوئی اُن کو مٹانے پر قادر نہ ہو سکے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے صحابہؓ کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ صحابہ نے جو حدیثیں جمع کیں وہ بجائے خود اتنا بڑا کارنامہ ہے جو اُن کے درجہ کو عام لوگوں کے وہم و گمان سے بھی بلند تر کر دیتا ہے۔پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول قرآن کریم کے کامل ماہر اور اُس کے عاشق تھے اور آپ کے احسانات جماعت احمدیہ پر بہت بڑے ہیں لیکن یہ سب وہ تھے جن میں سے کسی ایک پر بھی جاہل ہونے کا اعتراض نہیں کیا گیا اس لئے خدا تعالیٰ کی صفت علیم جس شان اور جس جاہ وجلال کے ساتھ میرے ذریعہ جلوہ گر ہوئی اُس کی مثال مجھے خلفاء کے زمرہ میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔میں وہ تھا جسے گل کا بچہ کہا جاتا تھا ، میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جا تا تھا مگر عہدۂ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہا۔