خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 1
خلافة على منهاج النبوة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خلافت رحمت خداوندی تحریر فرموده ۲۳ /جنوری ۱۹۲۲ء) جلد دوم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نائیجیر یا جانے والے دوسرے احمدی مبلغ حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب کو ۲۳ جنوری ۱۹۲۲ء بعد از نماز فجر مسجد مبارک میں چند ہدایات لکھ کر دیں ان میں سے ایک حصہ یہ تھا کہ خلافت رحمت خداوندی ہے حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں۔خلافت کا سلسلہ ایک رحمت ہے۔اور خدا تعالیٰ کی رحمت کی ناشکری کرنی دُکھ میں ا ڈالتی ہے۔انسان خواہ کس قدر بھی ترقی کر جائے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔پس خلافت سے مسلمان کسی وقت بھی مستغنی نہیں ہو سکتے نہ اب نہ آئندہ کسی زمانہ میں۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی برکات اس سے متعلق اور وابستہ ہیں اور اس سے جو خلافت سے دور ہو جاتا ہے ، دور ہو جاتا ہے اللہ اس سے۔جو اس سے تعلق کرتا ہے ، اپنا تعلق 66 مضبوط کرتا ہے۔“ حضور نے مزید تحریر فرمایا :۔اطاعت ایک اعلیٰ جو ہر ہے اسے پیدا کرنے کی کوشش کرو اور جو آپ کا افسر ہو اس کی اطاعت کرو اور اپنے نفس کو اپنے پر غالب مت آنے دو۔اگر کسی بات پر اعتراض ہو تو اس سے خلیفہ وقت کو اطلاع دو۔خود ہی اس پر فیصلہ نہ دو کیونکہ تفرقہ طاقت کو توڑ دیتا ہے اور یہی کھڑ کی ہے جس میں سے آدم کا دشمن اس کے گھر میں داخل ہوا کرتا ہے اور اس کو اس کے عزیزوں سمیت جنت میں سے خارج کر دیا کرتا ہے۔